کاشف شیخ کا مہنگائی کے خاتمے اور رمضان میں عوام کو ریلیف دینے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر) امیر جماعتِ اسلامی سندھ کاشف شیخ نے بڑھتی ہوئی مہنگائی پر فوری قابو پانے کے لیے کرپشن فری ہنگامی اقدامات اور خصوصاً رمضان شریف کے بابرکت مہینے میں عوام کو بھرپور ریلیف فراہم کرنے کا حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی آٹا، چینی، گھی، دالیں، سبزیاں اور دیگر ضروری اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ تشویشناک اورحکومتی رٹ پرسوالیہ نشان ہے۔ ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے باعث عام آدمی شدید مشکلات کا شکار ہے، جس کا سدباب کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ صوبائی امیرنے زوردیا کہ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو فعال ، سرکاری نرخ ناموں پر سختی سے عمل درآمد اور گراں فروشوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے۔انکا کہناتھا کہ دنیا بھر میں ہونے والے مذہبی ایام وتہواروں کے مواقع پر ازخود چیزوں کو سستا کردیا جاتا ہے تاکہ عام آدمی بھی اپنا فریضہ سرانجام دے سکے مگربدقسمی کے ساتھ یہاں اس کے برعکس کچھ لوگ ناجائزمنافعہ خوری کے ذریعہ ماہ مقدس کو پورے سال کی کمائی کا ذریعے بنادیتے ہیں جوک سراسرناانصافی اورظلم ہے۔انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ سحر و افطار کے اوقات میں گیس کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ عوام کو کھانے کی تیاری میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مزید برآں نمازِ تراویح کے دوران بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ کیا جائے تاکہ شہری سکون اور یکسوئی کے ساتھ عبادات ادا کر سکیں۔انہوں نے زور دیا کہ رمضان رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے، اس موقع پر عوام کو ریلیف دینا حکومت کی اخلاقی اور سماجی ذمہ داری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عوام کو
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔