غزہ میں تباہی کے ملبے اور یادوں کے سائے میں ماہِ صیام کا آغاز، فلسطینیوں کے حوصلے بلند
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مقبوضہ بیت المقدس: جنگ اور تباہی کے طویل سلسلے کے باوجود غزہ میں رمضان المبارک کا استقبال ایک بار پھر عزم اور حوصلے کے ساتھ کیا گیا ہے۔
کئی سال سے اسرائیلی حملوں نے جہاں شہر کی عمارتوں، گلیوں اور بازاروں کو کھنڈر میں بدل دیا ہے، وہیں بے شمار خاندان اپنے پیاروں کی جدائی کا دکھ بھی اٹھائے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود جیسے ہی رمضان کا چاند نمودار ہوا، فضا میں ایک روحانی کیفیت محسوس کی گئی اور لوگوں کے چہروں پر تھکن کے باوجود امید کی جھلک نمایاں دکھائی دی۔
پناہ گزین کیمپوں میں قائم عارضی خیمے، جو موسم کی سختیوں کا بمشکل مقابلہ کر پاتے ہیں، ان دنوں سادہ سجاوٹ سے آراستہ کیے جا رہے ہیں۔
بچے رنگ برنگی تصویریں بنا کر کپڑے کی دیواروں پر آویزاں کر رہے ہیں، جبکہ نوجوان خصوصی لالٹینوں اور روشنیوں سے اندھیرے ماحول کو منور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسی طرح اذان اور تکبیر کی صدائیں ملبے کے ڈھیروں کے درمیان گونجتی ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ روحانی وابستگی نے مادی تباہی کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔
غزہ کے باسیوں کے لیے یہ رمضان صرف عبادت کا مہینہ نہیں بلکہ صبر، یکجہتی اور اجتماعی استقامت کی علامت بھی ہے۔ افطار کے اوقات میں محدود وسائل کے باوجود لوگ ایک دوسرے کے ساتھ کھانا بانٹتے ہیں اور مساجد یا کھلے میدانوں میں اجتماعی دعاؤں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ کئی خاندان ایسے ہیں جن کے گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکے، مگر ان کا عزم کمزور نہیں ہوا۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگرچہ حالات بدستور غیر یقینی ہیں اور بنیادی سہولیات کی کمی شدت اختیار کر چکی ہے، تاہم رمضان انہیں نئی توانائی فراہم کرتا ہے۔
عالمی برادری کی نظریں اس وقت غزہ کی انسانی صورتحال پر مرکوز ہیں، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ یہاں کے شہری اپنے ایمان اور باہمی تعاون کے ذریعے زندگی کی شمع روشن رکھنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔