اسلام آباد: تاجکستان کے سفیر اور پاکستان کے وزارتِ تجارت کے خصوصی سیکریٹری کی اہم ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
اسلام آباد: تاجکستان کے سفیر اور پاکستان کے وزارتِ تجارت کے خصوصی سیکریٹری کی اہم ملاقات WhatsAppFacebookTwitter 0 20 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) جمہوریہ تاجکستان کے سفیر اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی وزارتِ تجارت کے خصوصی سیکریٹری سید حمید علی کے درمیان ایک ملاقات منعقد ہوئی۔
ملاقات کے دوران فریقین نے تجارت کی ترقی، غذائی تحفظ، اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعلقات کو مضبوط بنانے سے متعلق دوطرفہ تعاون کے فروغ پر تبادلۂ خیال کیا۔
دونوں جانب سے شعبہ جاتی پروگراموں کے تحت تعاون کو بڑھانے، مشترکہ منصوبوں پر عمل درآمد کرنے، اور علم و تجربات کے تبادلے کے لیے آمادگی کا اظہار کیا گیا۔ اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ تجارتی تعلقات کا فروغ علاقائی انضمام میں ایک اہم عنصر ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟ سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟ برطانیہ کا ایران پر حملے کیلئے امریکا کو اپنے فوجی اڈے دینے سے انکار زس کافی کے وفد کی ملائیشیا کے ہائی کمشنر سے ملاقات باجوڑ میں خودکش حملہ کرنیوالا خارجی دہشتگرد بھی افغان شہری نکلا، ناقابل تردید شواہد منظرعام پر پاکستان اور پرتگال کے درمیان قانونی تعاون بڑھانے پر اتفاق سکھ فار جسٹس کا تاریخی اعلان، بورڈ آف پیس کیلئے 1 بلین ڈالر مختصCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
اسلام آباد:ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔