data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی:منعم ظفر خان، امیر جماعت اسلامی کراچی، نے سولجر بازار میں عمارت گرنے کے افسوسناک سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ حکومتی نااہلی اور انتظامی غفلت کا واضح ثبوت ہے، قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ناقابلِ تلافی نقصان ہے اور جماعت اسلامی دکھ کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ کراچی میں غیر محفوظ عمارتوں، خستہ حال ڈھانچوں اور گیس لیکج جیسے بڑھتے ہوئے واقعات انتہائی تشویشناک ہیں، جو متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالیہ نشان ہیں،شہریوں کو بنیادی تحفظ فراہم کرنا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے مگر افسوس کہ متعلقہ محکمے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتے ہیں۔

منعم ظفر خان نے مطالبہ کیا کہ سانحے کے ذمہ دار افسران اور متعلقہ اداروں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے اندوہناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے، اگر بروقت نگرانی، عمارتوں کی فٹنس جانچ اور حفاظتی قوانین پر عملدرآمد یقینی بنایا جاتا تو قیمتی جانیں ضائع نہ ہوتیں۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کے لیے معقول مالی معاوضے اور زخمیوں کے مکمل و فوری علاج کی سہولیات فراہم کرنے پر بھی زور دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہر کو عملی طور پر لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے اور شہری عدم تحفظ کا شکار ہیں، مسلسل غفلت اور بدانتظامی نے شہریوں کا اعتماد متزلزل کر دیا ہے، جسے بحال کرنے کے لیے فوری اصلاحات ناگزیر ہیں۔ امیر جماعت اسلامی کراچی نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی متاثرین کی ہر ممکن مدد جاری رکھے گی اور مشکل کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی رہے گی۔

آخر میں انہوں نے جاں بحق افراد کے لیے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل دے جبکہ حکام کو تنبیہ کی کہ شہری سلامتی کے معاملے میں مزید کوتاہی ناقابل قبول ہوگی۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی انہوں نے

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری