ہم اکثر مقصد سے ہٹ کر دیگر مسئلوں میں الجھ جاتے ہیں، علی امین گنڈاپور
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
فائل فوٹو
سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ہم اکثر مقصد سے ہٹ کر دیگر مسئلوں میں الجھ جاتے ہیں۔
پشاور سے جاری بیان میں علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ اور صحت کے حوالے سے ہمارے تحفظات بدستور برقرار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جس نے عوام کو صحت کی مفت سہولتیں فراہم کیں، آج اپنی صحت کے معاملے میں مشکلات کا شکار ہے، افسوس ہے۔
سابق وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ پروپیگنڈا اور ڈرامہ چھوڑیں، عوام کی خدمت پر توجہ دیں۔
سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے مزید کہا کہ ہماری حکومت آئی تو ہم نے یونیورسل ہیلتھ کارڈ دیا اور ہر طرح کی بیماری کو اس میں کور کرتے گئے۔
اُن کا کہنا تھا کہ جب بانی پی ٹی آئی وزیراعظم بنے تو انہوں نے پورے ملک کے عوام کو صحت کارڈ کی سہولت دی، افسوس ہے آج بانی پی ٹی آئی کو ان کے ذاتی معالج تک سے ملنےنہیں دیا جا رہا۔
علی امین گنڈاپور نے یہ بھی کہا کہ میرے غصے سے کسی کا دل دکھا ہے تو معذرت خواہ ہوں، مگر میرا غصہ جائز ہے، ابھی تک چھوٹی سی جائز ڈیمانڈ بھی پوری نہیں کروا سکے کہ بانی پی ٹی آئی کو ان کا ذاتی معالج دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اگر اس معاملے پر کسی کو غصہ نہیں آ رہا تو میرے خیال میں اس میں انسانیت نہیں ہے، ہم سب کو اپنے مقصد پر فوکس کرنا چاہیے اور بھرپور انداز میں آواز اٹھانی چاہیے۔
سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ مطالبہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج کو ان تک رسائی دی جائے، ہم اکثر مقصد سے ہٹ کر دیگر مسئلوں میں الجھ جاتے ہیں اور اصل مقصد حاصل نہیں کر پاتے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور نے بانی پی ٹی ا ئی نے کہا کہ
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔