صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا عالمی ٹیرف 15 فیصد کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی سطح پر عائد ٹیرف میں مزید اضافہ کرتے ہوئے اسے 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اس فیصلے کا اعلان انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کیا۔
اپنے پیغام میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بطور صدر وہ دنیا بھر کے ممالک پر عائد 10 فیصد عالمی ٹیرف میں مزید 5 فیصد اضافہ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق کئی ممالک گزشتہ دہائیوں سے امریکا کے ساتھ تجارتی معاملات میں غیر منصفانہ رویہ اختیار کرتے رہے ہیں، جس کے باعث یہ اقدام ناگزیر ہو گیا۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ آنے والے مہینوں میں امریکی حکومت قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے نئے اور قابلِ اطلاق ٹیرف کی حتمی شرح طے کرے گی۔
اس سے قبل وہ تمام ممالک پر فوری طور پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرچکے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ عارضی ڈیوٹی 150 دن کے لیے امریکا درآمد ہونے والی اشیا پر لاگو ہوگی، تاہم بعض اشیا کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
مستثنیٰ اشیا میں معدنیات، کھاد، مختلف دھاتیں، توانائی سے متعلق آلات، زرعی مصنوعات، ادویات اور ادویات کا خام مال شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہ نئی ڈیوٹی امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کے مابین تجارتی معاہدے پر لاگو نہیں ہوگی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی سپریم کورٹ صدر ٹرمپ کی جانب سے دیگر ممالک پر عائد اضافی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے، جس کے بعد اس معاملے پر قانونی اور سیاسی بحث بھی جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔