کینڈین شہری لاہور سے اغوا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
لاہور میں کینڈین شہریت کا حامل ایک شخص اغوا ہوگیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق کینڈین شہری حمزہ احمد ریسرچ ورک کے لیے لاہور آیا تھا۔ حمزہ احمد اپنے دوست کے گھر ڈیفنس فیز 10 میں رہائش پذیر تھا۔
پولیس نے حمزہ احمد کے دوست یوسف رشید کے بیان پر اغواکاری کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔
مقدمے میں مدعی کا کہنا ہے کہ حمزہ احمد 13 فروری کو پاکستان پہنچا تھا۔ حمزہ احمد نجی کمپنی کی کیب بک کرکے باہر گیا مگر واپس نہیں لوٹا۔
ڈی آئی جی آپریشن لاہور محمد فیصل کامران نے کہا ہے کہ کیس پر تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک