اسلام آباد:

اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے خلاف حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان اور بی ایل اے دہشت گرد تنظیمیں، جن کے ساتھ سختی سے نمٹنا چاہیے۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان کے مرکزی رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر نے تیمور سلیم جھگڑا کے ہمراہ خیبرپختونخوا ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اسلام آباد اور بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑے واقعات ہوئے لہٰذا دہشت گردی کے سدباب کے لیے صفائی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ طالبان اور بی ایل اے دہشت گرد تنظیمیں ہیں جن کے ساتھ سختی سے نمٹنا چاہیے لیکن حکومت اس وقت ناکام نظر آرہی ہے۔

مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ ہمارے ہمسایہ ملک پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں، امریکا نے اپنے دو جنگی بحری بیڑے بھیج دیے ہیں، 2003 کے بعد سب سے بڑی ملٹری موومنٹ امریکا نے ایران کی جانب کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران میں رجیم چینج کی کوشش ہے، اس کے پاکستان پر کیا اثرات ہونے ہیں، اس پر کوئی بات نہیں ہو رہی ہے، بورڈ آف پیس میں ہم ڈھٹائی سے وہاں پہنچے اور کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ گارجین اخبار نے کہا جو جو بورڈ آف پیس میں گئے وہ ڈکٹیٹرز تھے یا ان کے نمائندے تھے، چین ، برطانیہ اس بورڈ آف پیس سے دور رہے، ہم وہاں خوشامد کرنے پہنچے ہوئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ وہاں روز ویلٹ ہوٹل کا بھی سودا کر آئے ہیں، کن بنیادوں پر روزویلٹ ہوٹل دیا گیا، کوئی معلومات نہیں۔

اپوزیشن اتحاد کے رہنما نے کہا کہ یہ نظام حکومت عوام کے لیے مفید ثابت نہیں ہوا، امن و امان کی حالت خراب ہے، ایسے مزید نہیں چل سکتے، مزید یہ سب کچھ جاری رہا تو یہ ملک کی بنیادوں کو ہلا دینے کے مترادف ہے لہٰذا ملک میں صاف شفاف انتخابات کروائے جائیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے، بانی پی ٹی آئی کو علاج معالجے کی بہترین فراہم کی جائیں، یہ فارم 47 کی حکومت اپنے آپ کو کسی کے سامنے جواب دہ نہیں سمجھتی، ایسے ملک نہیں چلتے۔

پاکستان میں 29 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے، تیمور جھگڑا

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ آج معیشت پر بات کریں گے، ہمیشہ کی طرح اس حکومت کے دعوے غلط ثابت ہوئے، میڈیا کنٹرول کرکے کہا گیا کہ سب کچھ بہترین ہے اور معیشت بہتر ہوگئی ہے لیکن 4 سال گزرنے کے باوجود ان کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق معیشت میں بہتری نہیں آئی۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل پوورٹی رپورٹ نے سب کچھ بے نقاب کردیا ہے، یہ رپورٹ وفاقی وزیر احسن اقبال نے جاری کی ہے، اس رپورٹ کے مطابق اس وقت 29 فیصد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے رہ رہے ہیں، غربت بڑھ گئی ہے، 11 سال میں غربت بہت زیادہ بڑھی ہے۔

تیمور جھگڑا نے کہا کہ اسی رپورٹ کے مطابق غریب اور امیر کے درمیان فرق بھی بہت بڑھ گیا ہے، غریب اور امیر کے درمیان فرق 1998 کے بعد سب سے زیادہ ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 41 فیصد غربت میں اضافہ ہوا ہے، سندھ میں 33 فیصد، خیبرپختونخوا میں 23 اور بلوچستان میں 12 فیصد غربت میں اضافہ ہوا جبکہ دو غریب صوبوں کی کارکردگی امیر صوبوں سے زیادہ بہتر ہے۔

رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ پیسہ ان کے پاس ہے، میڈیا اور طاقت ان کے پاس ہے، اس سب کے باوجود بھی یہ کچھ بھی نہیں کر پا رہے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔

تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ پاکستانیوں کے پاس 2015 سے کم پیسے ہیں، مجموعی خاندانوں کی کمائی میں 10 فیصد کمی آئی ہے، غربت کی لکیر کے مطابق جو انسان پاکستان میں ایک دن میں 282 روپے سے زیادہ کماتا ہے تو وہ غریب نہیں ہے جبکہ اس سے کم کمائے تو غریب ہے، 282 روپے میں کیا ہوتا ہے، 13 کڑوڑ پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے رہ رہے ہیں، بنگلا دیش اور ہندوستان میں غربت پاکستان سے آدھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ معیشت کا ماڈل نہیں چل رہا، کبھی منرلز، کبھی کرپٹو اور کبھی کارپوریٹ فارمنگ کی بات کی جاتی ہے جبکہ فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ 42 فیصد کم ہوئی ہے۔

تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ حکومت پنجاب نے 10 ارب روپے کا جہاز خریدا ہے، یہ وہ جہاز ہے جو الان مزک یا جیف بیزوز جیسے لوگوں کے پاس یا امیر ممالک کے سربراہان کے پاس ہوتے ہیں، یہ ایئر پنجاب کے لیے نہیں ہوسکتا، یہ خاص فلائٹس کے لیے ہوتا ہے۔

حکومت پنجاب کے جہاز پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کی فلائٹ بہت مہنگی ہوتی ہے، 10 ارب روپے کا پی آئی اے بیچا گیا، پنجاب میں کوئی اس کی جسٹیفیکیشن دینے کو تیار نہیں ہے، عوام کے پاس کھانے کو پیسے نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب نے سرکاری طور پر اجازت دے دی ہے کہ آئی جی اور چیف سیکریٹری ایک 1800 سی سی، ایک 2800 سی سی اور ایک 4500 سو سی سی گاڑی رکھ سکتے ہیں، اس پر 7 لاکھ روپے ماہانہ اپیٹرول استعمال ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ کیا پاکستان دنیا کے سب سے زیادہ جی ڈی پی پر کیپیٹا کا حامل ملک ہے، یہ کیا ہورہا ہے، عوام کہاں جائے، کوئی احتساب کرنے والا ہے لیکن یہاں کوئی جواب دینے والا نہیں ہے۔

سابق صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق سی سی ڈی نے ماورائے عدالت 900 قتل کردیے، فائر وال پر 40 ارب لگا دیے اب وہ بھی بند کردی۔

تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ نجم سیٹھی نے کہا پاکستان کی فارن پالیسی امریکا کو خوش کرنے کے لیے ہے، اسرائیلی اقدامات پر ہم صرف کاغذی مذمت تک محدود ہیں، بورڈ آف پیس میں فلسطین کا بھی کوئی نمائندہ شامل نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایران میں اسرائیل نواز حکومت آگئی تو اسرائیل ایران کے ذریعے ہمارے بارڈر تک آجائے گا، حکومت آج جو کمپرومائز کررہی اس کے کل کو کیا نتائج مرتب ہوں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ غربت کی لکیر بورڈ آف پیس سے زیادہ کے مطابق رہے ہیں کے لیے کے پاس

پڑھیں:

ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کرغز جمہوریہ کے خوبصورت شہر چولپون آتا میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی کونسل برائے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے علاقائی امن، استحکام، رابطہ کاری اور مشترکہ ترقی کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق سینیٹر اسحاق ڈار نے اجلاس کی میزبانی پر کرغز قیادت اور وزیر خارجہ ژین بیک کولوبایف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے شاندار انتظامات کو سراہا۔

https://x.com/ForeignOfficePk/status/2080577745026007042

اپنے خطاب میں نائب وزیراعظم نے شنگھائی تعاون تنظیم کے قیام کی 25ویں سالگرہ پر رکن ممالک کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ایس سی او گزشتہ پچیس برس کے دوران خطے میں امن، سلامتی، خوشحالی اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ’شنگھائی اسپرٹ‘ کے اصولوں پر مکمل یقین رکھتا ہے اور رکن ممالک کے درمیان تعاون، روابط اور مشترکہ ترقی کے فروغ کے لیے اپنی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔

اسحاق ڈار نے علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا بھی ذکر کیا، جن میں اسلام آباد مذاکرات اور اس کے نتیجے میں طے پانے والا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت  شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات پاکستان کے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے حل پر یقین کی عکاسی کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیںمسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، اسحاق ڈار کا آسیان فورم سے خطاب

انہوں نے اجلاس میں شریک وزرائے خارجہ کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو سراہا۔

وزیر خارجہ نے اس موقع پر اعلان کیا کہ پاکستان ستمبر 2026 میں شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ  کی سربراہی سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے تمام رکن ممالک کو 2027 میں پاکستان میں منعقد ہونے والے ایس سی او سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت بھی دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • 5 دنوں میں پٹرول اور ڈیزل اوسطاً 54 روپے بڑھا دیا گیا: تیمور جھگڑا