ڈاکٹر نبیہا کے الزامات پر شوہر حارث کھوکھر کا ردعمل سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
سوشل میڈیا انفلوئنسر ڈاکٹر نبیہا علی خان کے الزامات پر ان کے شوہر حارث کھوکھر کا مؤقف سامنے آگیا ہے۔
ویڈیو بیان میں حارث کھوکھر کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر نبیہا شک اور وہم کا شکار ہیں جس کا کوئی علاج نہیں ہوسکتا، ان کے بقول دونوں کے درمیان کوئی سنجیدہ اختلاف نہیں تھا اور وہ اپنے گھر کی نسبت ان کے ساتھ زیادہ خوش تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے نیا کاروبار شروع کیا تو ڈاکٹر نبیہا کا مطالبہ تھا کہ وہ جہاں بھی جائیں انہیں ساتھ لے کر جائیں۔ حارث کے مطابق پیشہ ورانہ ملاقاتوں، دوستوں کی محفلوں یا دیگر سماجی سرگرمیوں میں بیوی کو ساتھ بٹھانا مناسب نہیں ہوتا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ جب بھی کام کے لیے گھر سے نکلنے کا ارادہ کرتے تو ڈاکٹر نبیہا کو شبہ ہوتا کہ وہ کسی اور جگہ جا رہے ہیں۔ حارث نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے زندگی میں کوئی غلط یا غیر قانونی کام نہیں کیا، تاہم ان کی اہلیہ بدگمانی اور وہم میں مبتلا رہتی ہیں۔
حارث کھوکھر نے مزید کہا کہ وہ گھر اور خاندان کی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں، لیکن ہر جگہ اہلیہ کو ساتھ لے جانا ممکن نہیں۔ ان کے مطابق مسئلہ صرف بداعتمادی اور منفی سوچ کا ہے، جبکہ ان کے درمیان نہ کوئی جھگڑا ہوا، نہ مارپیٹ اور نہ ہی انہوں نے کبھی گالی دی۔
واضح رہے ڈاکٹر نبیہا علی خان نے گزشتہ سال حارث کھوکھر سے منگنی اور شادی کا اعلان کر کے مداحوں کو حیران کر دیا تھا۔ تاہم شادی کے چند ماہ بعد ہی دونوں کے درمیان اختلافات کی خبریں گردش کرنے لگی تھیں۔
حال ہی میں ڈاکٹر نبیحہ نے ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ان کی شادی اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہے، رشتہ ابھی ختم نہیں ہوا، مگر حالات ایسے ہو چکے ہیں کہ بات طلاق تک جا سکتی ہے۔
ڈاکٹر نبیہا کا کہنا تھا کہ اگر ان کا گھر ٹوٹا تو اس کے ذمہ دار ان کے شوہر کے گھر والے ہوں گے۔ ان کے مطابق حارث کھوکھر اپنے والدین کی باتوں میں آ کر ان کے ساتھ ناروا رویہ اختیار کرتے ہیں۔
ڈاکٹر نبیہا نے سوال اٹھایا کہ اگر گھر والوں کو پہلے سے کوئی اور رشتہ منظور تھا تو انہیں اس شادی میں کیوں شامل کیا گیا۔ اپنے شوہر کی محبت میں اپنی ساس کی دن رات خدمت کی، گھر کے تمام کام انجام دیے اور اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات بھی کم کر دیں تاکہ شادی شدہ زندگی کو وقت دے سکیں۔ ان کے مطابق وہ اپنا گھر بچانا چاہتی تھیں، مگر اس کے باوجود حالات بہتر نہ ہو سکے
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ڈاکٹر نبیہا حارث کھوکھر انہوں نے کے مطابق تھا کہ
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔