Express News:
2026-07-24@22:31:42 GMT

پی ٹی آئی نے پانچ اگست جلسے کا مقام تبدیل کردیا

اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2026 GMT

پشاور:

پی ٹی آئی نے پانچ اگست جلسے کا مقام تبدیل کردیا، جلسہ اب پشاور موٹروے کے قریب میدان میں ہوگا، وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ پانچ اگست کا جلسہ فیصلہ کن ہوگا جس میں آئندہ لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا۔

تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس وزیر اعلی ہاؤس پشاور میں منعقد ہوا جس کی صدارت وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کی۔ اجلاس میں ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے شرکت کی۔ اجلاس میں پانچ اگست کے جلسے کے مقام کے حوالے سے بات کی گئی۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ پانچ اگست کے جلسے کی تیاریوں کے لیے تمام پارلیمانی اراکین کو ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں، پانچ اگست کا جلسہ سیمی فائنل اور فیصلہ کن ہوگا، آئندہ لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا، عوام کی سہولت کے لیے پانچ اگست کے جلسے کا مقام تبدیل کر کے پشاور موٹروے کے قریب کھلے میدان میں منتقل کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ 15 اکتوبر 2025ء سے تمام آئینی و قانونی راستے اختیار کیے اور افہام و تفہیم سے مسائل حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت بھی مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل کے حل کی خواہاں تھی، مخالفین نے مثبت کوششوں کا کوئی جواب نہیں دیا، عمران خان سے ملاقات کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کیا، اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان سے ملاقات کی کوشش کی، ایک تقریب میں چیف جسٹس کے سامنے عمران خان سے ملاقات کا مؤقف پیش کیا، بطور وزیراعلیٰ اپنی جماعت کے قائد سے ملاقات میرا آئینی اور قانونی حق ہے۔

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ صوبے کے فیصلے عمران خان کے وژن کے مطابق کرنا ہماری ذمہ داری ہے، ہم میں سے کسی کی ذاتی سیاسی حیثیت نہیں، عوام نے عمران خان کے نام پر ووٹ دیا، عمران خان کو ملنے والا مینڈیٹ مسترد کرنا ساڑھے چار کروڑ عوام کی توہین ہے، وفاق خیبرپختونخوا کی منتخب حکومت کے ساتھ دوسرے درجے کے شہری جیسا سلوک کر رہا ہے، عمران خان کی فیملی، بہنوں اور ذاتی ڈاکٹروں کو ملاقات اور بہترین علاج کی سہولت دی جائے، عمران خان قوم کا اثاثہ اور ملک کے مقبول ترین سیاسی رہنما ہیں۔

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ہم پر فوجی تنصیبات پر حملوں کے الزامات لگائے گئے، نو مئی کی غیرجانب دارانہ تحقیقات سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا، عمران خان کا مؤقف ہے “فوج بھی میری، ملک بھی میرا”، تمام بیانیوں میں مخالفین کو شکست دینے کے باوجود مسائل حل نہیں ہوئے، اب پُرامن احتجاج ہی آخری آئینی راستہ ہے، آئین ہر شہری کو اس کا حق دیتا ہے۔

پارلیمانی پارٹی اجلاس کی اندرونی کہانی

تحریک انصاف کے پارلیمانی پارٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی، اجلاس میں تلخی ہوئی، ناراض ارکان نے سخت تقریریں کیں، وزیراعلی سہیل آفریدی کی تقریر کے بعد ناراض ارکان نے سخت جملوں کا تبادلہ کیا جس پر وزیراعلی ناراض ہوگئے۔

ذرائع کے مطابق ناراض ارکان نے تحریک سے قبل کنونشن بلانے اور ارکان اسمبلی اور پارٹی عہدے داروں سے حلف لینے کا مطالبہ کیا، ناراض ارکان کے سخت رویے سے اجلاس میں ماحول تلخ ہوگیا جس کے بعد ناراض ارکان اجلاس سے چلے گئے۔

ذرائع کے مطابق ناراض ارکان کے تحفظات پر وزیراعلیٰ نے ان کے تمام تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

ناراض رکن فضل الہٰی نے ایکسپریس سے گفتگو میں کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ 5 اگست کا جلسہ کچھ روز بعد کیا جائے پہلے ورکرز کنونشن بلایا جائے، جس طرح سینیٹ الیکشن میں حلف لیا گیا اسی طرح تحریک کے لیے حلف لیں، ہم چاہتے ہیں کہ اس بار تحریک زور پکڑے، جلسہ خیبرپختونخوا میں نہیں پنجاب میں ہونا چاہیے تاکہ حکومت پر دباؤ آئے مگر ہماری تجاویز کو نہیں سنا گیا جب کہ ہمیں عمران خان کی رہائی کے لیے فیصلہ رکن تحریک چلانی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ناراض ارکان پانچ اگست اجلاس میں سے ملاقات کے لیے

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • پیپلزپارٹی نے اجازت نہ ملنے پر مینار پاکستان سے جلسے کا مقام تبدیل کردیا
  • پی ٹی آئی کا 5 اگست کے جلسے کا مقام تبدیل، وزیراعلیٰ نے جلسے کو ’فیصلہ کن‘ قرار دے دیا
  • پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
  • پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی، ارکان کا سخت جملوں کا تبادلہ
  • پیپلز پارٹی کا کل مینار پاکستان جلسہ لٹک گیا، انتظامیہ نے اجازت نہیں دی
  • پانچ اگست کا جلسہ فیصلہ کن ہوگا، آئندہ لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا: سہیل آفریدی
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ