پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 5 اگست کو ہونے والے اپنے مجوزہ جلسے کا مقام تبدیل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی قیادت کے مطابق عوام کی سہولت کے پیش نظر جلسہ اب پشاور موٹروے کے قریب واقع کھلے میدان میں منعقد ہوگا۔

یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں منعقدہ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کی۔ اجلاس میں قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان نے شرکت کی اور جلسے کی تیاریوں سمیت سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ 5 اگست کا جلسہ پارٹی کے لیے انتہائی اہم اور فیصلہ کن ہوگا ، جس میں آئندہ سیاسی لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ جلسے کی کامیابی کے لیے تمام پارلیمانی اراکین کو ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ پارٹی نے گزشتہ عرصے میں آئینی اور قانونی راستوں کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کی، تاہم ان کوششوں کے مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ بطور وزیراعلیٰ اپنی جماعت کے قائد سے ملاقات ان کا آئینی اور قانونی حق ہے، جبکہ عمران خان سے ملاقات کے لیے عدالتوں سے بھی رجوع کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی قیادت سمجھتی ہے کہ عوام نے مینڈیٹ عمران خان کے نام پر دیا، اس لیے ان کے وژن کے مطابق فیصلے کرنا منتخب نمائندوں کی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں پُرامن احتجاج ہی آئینی اور جمہوری راستہ ہے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بعض ارکان نے جلسے کی حکمت عملی پر تحفظات کا اظہار کیا، جس سے اجلاس کے دوران تلخی بھی دیکھنے میں آئی۔ چند ارکان نے جلسے سے قبل ورکرز کنونشن منعقد کرنے اور کارکنوں سے باقاعدہ حلف لینے کی تجویز دی، جبکہ بعض نے مؤقف اختیار کیا کہ احتجاج کا مرکز خیبرپختونخوا کے بجائے پنجاب ہونا چاہیے تاکہ سیاسی دباؤ میں اضافہ ہو۔

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے ناراض ارکان کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی، تاہم پارٹی کی جانب سے 5 اگست کے جلسے کی تیاریاں بدستور جاری ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے مطابق جلسے کی

پڑھیں:

فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ

فیفا کی جانب سے امریکی فارورڈ فولارین بالوگن کی ایک میچ کی خودکار معطلی کا اقدام واپس لیے جانے کے فیصلے پر تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ناروے فٹبال فیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر فیفا کی ایتھکس کمیٹی میں باضابطہ شکایت دائر کرنے پر غور کر رہی ہے۔

بالوگن کو بوسنیا ہرزیگووینا کے خلاف میچ میں اسٹریٹ ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا جس کے باعث انہیں بیلجیئم کے خلاف پری کوارٹر فائنل سے باہر ہونا تھا۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد فیفا نے ان کی ایک میچ کی پابندی 12 ماہ کے لیے معطل کر دی جس کے نتیجے میں وہ بیلجیئم کے خلاف میدان میں اترے مگر امریکا کو 1-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

ناروے فٹبال فیڈریشن کی صدر لیزے کلاوینیس کے مطابق اس معاملے کو فیفا کی جانب سے ٹرمپ کو دیے گئے ’پیس پرائز‘ سے متعلق پہلے سے دائر شکایت کے ساتھ شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔

دوسری جانب بیلجیئم فٹبال فیڈریشن اور یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا نے بھی فیفا کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ فیفا نے بیلجیئم کی وضاحت طلب کرنے کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا۔

متعلقہ مضامین

  • پیپلزپارٹی نے اجازت نہ ملنے پر مینار پاکستان سے جلسے کا مقام تبدیل کردیا
  • پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
  • پی ٹی آئی نے پانچ اگست جلسے کا مقام تبدیل کردیا
  • پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی، ارکان کا سخت جملوں کا تبادلہ
  • پیپلز پارٹی کا کل مینار پاکستان جلسہ لٹک گیا، انتظامیہ نے اجازت نہیں دی
  • پانچ اگست کا جلسہ فیصلہ کن ہوگا، آئندہ لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا: سہیل آفریدی
  • فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟