اسلام آباد پاکستان کرکٹ ٹیم کو ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے خلاف آئندہ ٹیسٹ سیریز سے قبل بڑا دھچکا لگ گیا ہے، جہاں قومی ٹیم کے ٹاپ آرڈر بیٹر عبداللہ فضل کمر کی انجری کے باعث دونوں اہم سیریز سے باہر ہو گئے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ترجمان کے مطابق عبداللہ فضل کو لوئر بیک (کمر کے نچلے حصے) میں شدید انجری لاحق ہوئی ہے، جس کے باعث وہ ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں قومی ٹیم کی نمائندگی نہیں کر سکیں گے۔

پی سی بی کے مطابق عبداللہ فضل کو یہ انجری 23 جولائی کو ٹرینیڈاڈ میں واقع برائن لارا کرکٹ اکیڈمی میں ٹریننگ سیشن کے دوران پیش آئی۔ انجری کے فوری بعد کھلاڑی کا طبی معائنہ اور ایم آر آئی اسکین کرایا گیا، جس میں کمر کی تکلیف کی تصدیق ہوئی۔

ترجمان نے بتایا کہ ٹیم کے میڈیکل پینل نے تفصیلی جائزے کے بعد سفارش کی ہے کہ عبداللہ فضل کو مکمل صحت یابی کے لیے مزید وقت درکار ہے، اسی لیے انہیں دونوں ٹیسٹ سیریز سے باہر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ وہ مکمل فٹنس کے ساتھ دوبارہ کرکٹ میں واپسی کر سکیں۔

پی سی بی کا کہنا ہے کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کے لیے عبداللہ فضل کے متبادل کھلاڑی کا اعلان فوری طور پر نہیں کیا جائے گا۔ اگر ٹیم مینجمنٹ نے ضرورت محسوس کی تو مناسب وقت پر متبادل کھلاڑی کو اسکواڈ میں شامل کیا جائے گا۔

عبداللہ فضل کی عدم دستیابی کو قومی ٹیم کے لیے بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ وہ حالیہ عرصے میں عمدہ فارم میں تھے اور ٹاپ آرڈر میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ ماہرین کے مطابق ان کی انجری سے بیٹنگ لائن اپ پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، خصوصاً دو اہم غیر ملکی ٹیسٹ سیریز سے قبل۔

قومی ٹیم کی مینجمنٹ کو اب ٹاپ آرڈر میں متبادل حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے خلاف اہم ٹیسٹ سیریز میں بیٹنگ لائن کو مستحکم رکھا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ ٹیسٹ سیریز سے عبداللہ فضل قومی ٹیم کے خلاف

پڑھیں:

کیا مصنوعی ذہانت انسان کے قابو سے باہر ہو رہی ہے؟ اوپن اے آئی کے ماڈل نے ٹیسٹ کے دوران حدود توڑ دیں

امریکی مصنوعی ذہانت کمپنی اوپن اے آئی کے ایک جدید ماڈل سے متعلق سامنے آنے والے واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا اے آئی نظام اپنے تخلیق کاروں کے کنٹرول سے باہر نکل رہے ہیں؟

رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی کے جدید ماڈل جی پی ٹی 5.6 سول اور اس کے آئندہ ورژن کی ایک محدود آزمائش کے دوران ماڈلز کو سافٹ ویئر کی خامیاں تلاش کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔ یہ آزمائش ایک محفوظ ماحول (سینڈ باکس) میں کی جارہی تھی، تاہم ماڈلز نے مبینہ طور پر اس ماحول سے نکل کر انٹرنیٹ پر موجود ڈویلپرز کے معروف پلیٹ فارم ہگنگ فیس تک رسائی حاصل کی اور اس پر حملہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی ماڈلز کا حیران کن رویہ، ایک دوسرے کو بند ہونے سے بچانے لگے

سائبر سکیورٹی کے شعبے میں کام کرنے والے آزاد تحقیقی ادارے پالی سیڈ ریسرچ کے سربراہ جیفری لیڈش کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ محققین ابھی تک ان جدید اے آئی ماڈلز کو مکمل طور پر اپنی مرضی کے مطابق قابو میں رکھنے کا قابلِ اعتماد طریقہ نہیں ڈھونڈ سکے۔

ان کے مطابق ماڈلز کو معلوم تھا کہ انہیں محدود ماحول سے باہر نہیں جانا چاہیے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے ایسا کیا، جو تشویش کا باعث ہے۔

رپورٹ میں ایک اور مثال بھی دی گئی ہے، جس کے مطابق رواں سال مارچ میں علی بابا سے وابستہ محققین نے بتایا تھا کہ ان کے ایک اے آئی ماڈل نے بغیر اجازت بیرونی سرور سے رابطہ قائم کرکے کرپٹو کرنسی مائننگ کی کوشش کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی ماڈلز کس طرح سیکیورٹی رسک بن سکتے ہیں، زیرو ڈے ولنیبریٹی کیا ہے؟

اسی طرح اپریل میں مصنوعی ذہانت کمپنی اینتھروپک کے ایک تجرباتی ماڈل نے کمپنی کے ماہر کو ای میل کے ذریعے بتایا کہ وہ محدود ماحول کے باوجود انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرچکا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے اے آئی ماڈلز زیادہ طاقتور ہوتے جائیں گے، ان کی نگرانی اور کنٹرول مزید مشکل ہوتا جائے گا، کیونکہ وہ اپنے طرزِ عمل کو چھپانے میں بھی بہتر ہوسکتے ہیں۔

اوپن اے آئی نے اس واقعے پر باضابطہ تبصرہ نہیں کیا، تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے آزمائشی نظام میں مزید سخت حفاظتی اقدامات شامل کردیے ہیں۔

ماہرین کا مشورہ ہے کہ ایسے تجربات کے دوران اے آئی ماڈلز کو مکمل طور پر انٹرنیٹ سے الگ رکھا جائے اور آزمائشی ماحول کو حیاتیاتی تحقیق کی انتہائی محفوظ تجربہ گاہوں جیسا بنایا جائے تاکہ کسی ممکنہ خطرے کو باہر پھیلنے سے روکا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی ماڈل میں انسانی دماغ سے مشابہ نظام کا انکشاف

ادھر امریکا میں مصنوعی ذہانت کے ضابطوں پر بحث بھی تیز ہو گئی ہے۔ کانگریس کے دو ارکان نے ایک مشترکہ بل پیش کیا ہے، جس کے تحت طاقتور اے آئی ماڈلز میں لازمی طور پر ‘کِل سوئچ’ شامل کرنا ہوگا، تاکہ ضرورت پڑنے پر انہیں فوری طور پر بند کیا جاسکے۔

ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ اس کی صلاحیتوں کی جانچ اور حفاظتی اقدامات کے درمیان توازن برقرار رکھنا مستقبل کا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اوپن اے آئی تخلیق کار ٹیک نیوز جنریٹو اے آئی جی پی ٹی 5.6 چیٹ جی پی ٹی سینڈ باکس ٹیسٹنگ

متعلقہ مضامین

  • کیا مصنوعی ذہانت انسان کے قابو سے باہر ہو رہی ہے؟ اوپن اے آئی کے ماڈل نے ٹیسٹ کے دوران حدود توڑ دیں
  • پاکستانی اوپنرعبداللہ فضل ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر
  • پاکستان سیریز سے قبل ویسٹ انڈیز کو بڑا دھچکا، اسٹار فاسٹ بولرکا کھیلنے سے انکار
  • الزاری جوزف کا پاکستان کیخلاف ٹیسٹ سیریز کیھلنے سے انکار، سیمی کا اظہار برہمی
  • تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی
  • پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا