پہلگام واقعہ بھارتی ایجنسی"’ر:" نے کروایا، مشعال ملک
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
مشعال ملک نے کہا کہ بھارت دنیا بھر میں کشمیریوں کو ٹارگٹ کر رہا ہے، بھارت میں مسلمانوں اور سکھوں سمیت اقلتیں محفوظ نہیں، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسلام تائمز۔ حریت رہنماء یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ پہلگام واقعہ بھارت ایجنسی "را" نے کروایا، سندھ طاس معاہدے پر بھارت دہشت گردی کر رہا ہے، بھارت نے سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ توڑا ہے، سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا قابل مذمت ہے۔ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشعال ملک کا کہنا تھا کہ پہلگام واقعہ بھارت ایجنسی "را" نے کروایا، اس سے قبل پٹھان کوٹ اور دیگر واقعات بھی انڈین ایجنسیز نے کرائے، جعفر ایکسپریس ہو یا گجرات کے واقعات ہوں سب میں بھارت ملوث رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بغیر ثبوت کے بھارت نے پاکستان پر الزام عائد کیا، بھارت نے سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ توڑا ہے، سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا قابل مذمت ہے۔ مشعال ملک نے کہا کہ بھارت دنیا بھر میں کشمیریوں کو ٹارگٹ کر رہا ہے، بھارت میں مسلمانوں اور سکھوں سمیت اقلتیں محفوظ نہیں، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے پاس صرف ٹورازم کا شعبہ رہ گیا تھا وہ بھی ان سے چھین لیا گیا، کشمیریوں کی روایت ہے انہوں نے کبھی اپنے مہمانوں اور سیاحوں کو نقصان نہیں پہنچایا، کشمیریوں نے کرفیو کے دوران سیاحوں کو اپنے گھروں میں رکھا، خود کشمیری بھوکے رہے اور سیاحوں کو کھانا کھلایا۔ مشعال ملک نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے، بھارت کی مودی سرکار ہندوتوا ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارت غیر قانونی اقدامات کا مرتکب ہو رہا ہے،اقوام متحدہ اور عالمی برادری بھارتی ہٹ دھرمیوں پر آواز اٹھائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سندھ طاس معاہدہ مشعال ملک نے نے کہا کہا کہ رہا ہے
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔