2 کروڑ سکھ پاکستان کیساتھ ہیں، انڈین آرمی کو پنجاب سے گزر کر حملہ نہیں کرنے دینگے، گرپتونت سنگھ
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
سکھ فار جسٹس کے سربراہ نے کہا کہ جس نے بھی حملہ کیا، پھر وہ بچا نہیں، پھر چاہے وہ اندرا گاندھی ہو نریندر مودی ہو یا امیت شاہ، ہم مودی، اجیت دودل، امیت شاہ اور جے شنکر کو عالمی قوانین کے تحت کٹہرے میں کھڑا کریں گے، پہلگام میں جو کچھ ہوا، انہوں نے اپنے ہی ہندوؤں کو خود مار دیا، اس حملے کا مقصد راج نیتی اور ووٹ کا حصول ہے۔ اسلام ٹائمز۔ عالمی تنظیم سکھ فار جسٹس کے سربراہ اور خالصتان تحریک کے سینئر رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے پاکستان سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی ریاستی دہشت گردی قابل مذمت ہے، ہم پاکستانی عوام کے ساتھ اینٹ کی طرح کھڑے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق گرپتونت سنگھ پنوں نے ایک بیان میں کہا کہ یہ 1965ء ہے نہ ہی 1971ء، بلکہ یہ 2025ء ہے، انڈین آرمی کو پنجاب سے گزر کر پاکستان پر حملہ نہیں کرنے دیں گے، پاکستان کا نام ہی پاک ہے ، ہم 2 کروڑ سکھ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
سکھ فار جسٹس کے سربراہ نے کہا کہ بھارت کی اتنی ہمت نہیں کہ وہ پاکستان پر حملہ کرے، ہماری روایت ہے کہ ہم نے کبھی پہلے حملہ کیا ہے نہ اب حملے میں پہل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جس نے بھی حملہ کیا، پھر وہ بچا نہیں، پھر چاہے وہ اندرا گاندھی ہو نریندر مودی ہو یا امیت شاہ، ہم مودی، اجیت دودل، امیت شاہ اور جے شنکر کو عالمی قوانین کے تحت کٹہرے میں کھڑا کریں گے۔ گرپتونت سنگھ پنوں نے کہا کہ پہلگام میں جو کچھ ہوا، انہوں نے اپنے ہی ہندوؤں کو خود مار دیا، اس حملے کا مقصد راج نیتی اور ووٹ کا حصول ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گرپتونت سنگھ نے کہا کہ امیت شاہ
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔