پاکستانی ٹی وی چینلز پر بھارتی پابندیاں شرمناک عمل ہے: شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن---فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پاکستانی ٹی وی چینلز پر بھارتی پابندیاں شرمناک عمل ہے۔
انہوں نے بھارت میں پاکستانی چینلز اور اینکرز پر پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں جب الیکشن قریب آتے ہیں تو بی جے پی فالس فلیگ آپریشن کر کے ہمدردیاں بٹورتی ہے۔
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کھلی جارحیت اور خطے میں امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی نیوز چینلز کو بلاک کرنے کا فیصلہ بھارتی حکومت کی فسطائی کا ثبوت ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ انتہا پسند مودی سرکار پابندیوں سے کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کو چھپا نہیں سکتی، کسی بھی قسم کی پابندی کشمیری عوام کو راہ آزادی سے ہٹا نہیں سکتی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شرجیل میمن
پڑھیں:
امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پابندیوں کا مقصد ایران سے منسلک مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے جن پر امریکی حکام کو پابندیوں سے بچنے میں معاونت کا شبہ ہے۔
بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان افراد اور اداروں کے ساتھ کاروبار یا مالی لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے، کمپنیاں اور افراد بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس اقدام کے بعد بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے لیے ان نامزد اداروں سے تعلقات برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ حتمی منصوبے پر فوری ردعمل دینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی باضابطہ جواب نہیں بھیجا گیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی تجویز پر ایران میں مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے اور متعلقہ حکام اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے تہران کسی بھی ممکنہ معاہدے میں صرف وعدوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایسے ٹھوس اور حقیقی فوائد کا خواہاں ہے جو ایرانی عوام اور ملکی معیشت کے لیے عملی نتائج فراہم کر سکیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نئی امریکی پابندیاں اور جاری سفارتی مذاکرات ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے امکانات پر بھی عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔