مودی نے بھارت کو ذات پات کے نام پر بانٹ کر کمزور کردیا، ہندوستان کے اندر سے آوازیں اٹھنے لگیں
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھارت کے اندر سے مودی سرکار کے خلاف آوازیں اٹھنے لگیں، اور نوجوان حکومت سے سوالات کررہے ہیں۔
مودی سرکار کی ناکامی پر بھارتی نوجوان نے احتجاج کرتے ہوئے کہاکہ اقتدار کی ہوس میں مودی نے ہمیشہ جھوٹے دعوے کیے، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ بھی پڑھیں پہلگام فالس فلیگ آپریشن: پاکستانی میڈیا کا بھارتی پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب، جھوٹا بیانیہ دفن
بھارتی نوجوان نے کہاکہ نوجوانوں اور کسانوں سے کیے گئے وعدے آج بھی تشنۂ تکمیل ہیں، مودی نے 2 کروڑ نوکریوں کا وعدہ کیا، مگر آج بھارتی نوجوان بیروزگاری کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔
نوجوان کا کہنا تھا کہ مودی، امیت شاہ اور یوگی آدتیہ ناتھ نے ملک کو نفرت، تشدد اور فرقہ واریت کی آگ میں جھونک دیا ہے، بھارتی نوجوان جنگ نہیں روزگار، تعلیم اور امن چاہتے ہیں۔
نوجوان نے کہاکہ مودی سرکار نے بھارت کو مذہب اور ذات پات کے نام پر بانٹ کر کمزور کیا ہے، بھارتی عوام اب مودی کی نفرت انگیز سیاست کو رد کر چکی ہے اور ایک منصفانہ، متحد اور ترقی یافتہ بھارت کا مطالبہ کررہی ہے۔
واضح رہے کہ پہلگام میں نامعلوم افراد کی جانب سے سیاحوں کو ہلاک کیے جانے کے بعد بھارت نے یہ الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے ساتھ ساتھ سنگین نتائج کی دھمکی بھی دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں مودی راج میں صحافت زیر عتاب: پہلگام فالس فلیگ کے بعد کریک ڈاؤن میں شدت
پاکستان نے بھارتی اقدامات کا بھرپور جواب دیتے ہوئے وارننگ دی ہے کہ اگر ہمارا پانی بند کیا گیا تو پھر جنگ ہوگی، اس کے علاوہ بھارت کی فضائی حدود بند کرنے کے ساتھ ساتھ واہگہ بارڈر کے راستے تجارت بھی معطل کردی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پاک بھارت کشیدگی پاکستان بھارت جنگ پہلگام فالس فلیگ سوال اٹھنے لگے مودی سرکار نوجوان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک بھارت کشیدگی پاکستان بھارت جنگ پہلگام فالس فلیگ سوال اٹھنے لگے مودی سرکار نوجوان وی نیوز پہلگام فالس فلیگ بھارتی نوجوان مودی سرکار
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔