شہباز شریف کا آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز کا دورہ، ملکی صورتحال پر بریفنگ دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
اسلام آباد میں آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز کے دورے کے موقع پر وزیراعظم کو مسلح افواج کی تیاریوں پر تفصیل سے بریفنگ دی گئی، وزیر اعظم کو ہائبرڈ جنگی حکمت عملی اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز پر بھی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پوری قوم بہادر افواج کے شانہ بشانہ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا، وزیراعظم کو ملکی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم کے ساتھ وزیر دفاع خواجہ آصف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی تھے، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر بھی بریفنگ میں شریک تھے، بحریہ اور فضائیہ کے سربراہ بھی بریفنگ میں شریک تھے۔
شہباز شریف کو مسلح افواج کی تیاریوں پر تفصیل سے بریفنگ دی گئی، وزیر اعظم کو ہائبرڈ جنگی حکمت عملی اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز پر بھی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پوری قوم بہادر افواج کے شانہ بشانہ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بریفنگ دی گئی بھی بریفنگ شہباز شریف
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔