پاکستان کا منہ توڑ جواب، بھارت گھبرا گیا عرب دنیا سے مدد مانگ لی
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
اسلام آباد / نئی دہلی(نیوز ڈیسک) پاکستان کے مؤثر اور بھرپور جوابی کارروائی کے بعد بھارت شدید دباؤ میں آگیا ہے اور کشیدگی کم کرانے کے لیے عرب دنیا سے رابطے شروع کر دیے ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق بھارت نے خاص طور پر متحدہ عرب امارات سے درخواست کی ہے کہ وہ پاکستان پر اثر و رسوخ استعمال کرے تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے۔
متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید النہیان نے پاک بھارت کشیدگی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیونکہ یہ کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے امن کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے بات چیت اور افہام و تفہیم پر زور دیا۔
دوسری جانب، بھارت نے بلااشتعال پاکستان کے مختلف علاقوں پر حملے کیے، جن میں ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق چھ مقامات پر 24 حملے کیے گئے۔ ان بزدلانہ حملوں میں 8 پاکستانی شہری شہید اور 35 زخمی ہوئے، جب کہ 2 افراد لاپتہ ہیں۔
تاہم، پاکستان نے ان حملوں کا فوری اور زبردست جواب دیا۔ پاکستانی فضائیہ نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے بھارت کے 5 جنگی طیارے مار گرائے اور ایک بھارتی بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو مکمل طور پر تباہ کر دیا، جس سے دشمن کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
بھارت کا بزدلانہ حملہ: پاکستانی ایئرسپیس بند، تمام پروازیں منسوخ
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔