پاکستانی ایف 16 گرانے کی خبر سفید جھوٹ اور فیک، سیکیورٹی ذرائع
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
بھارتی میڈیا پر پاکستانی ایف 16 گرانے کی خبر سفید جھوٹ اور جعلی ہے۔
سیکورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ آج ہیروپ ڈرون حملوں کی ناکامی کے بعد بھارت مزید بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکا ہے، ناکامی در ناکامی نے بھارت کو مکمل طور پر ماؤف اور کنفیوز کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں حملے سے متعلق خبروں میں صداقت نہیں، سیکیورٹی ذرائع
اسی گھبراہٹ میں بھارت اب راجھستان، پٹھان کوٹ اور مقبوضہ کشمیر میں خیالی حملے میڈیا کے ذریعے کر کے پاکستان کے خلاف اگلی جارحیت کا جواز بنانا چاہتا ہے۔
افواج پاکستان بھارت کے تمام ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں، بھارتی میڈیا پر پاکستانی ایف 16 گرانے کی خبر سفید جھوٹ اور فیک نیوز ہے۔
یاد رہے کہ خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے خبر دی تھی کہ جمعرات کو مقبوضہ کشمیر کے جموں شہر میں 2 بڑے دھماکوں اور سائرن کی آوازیں سنی گئیں جس کے ساتھ ہی پورے شہر میں بلیک آؤٹ ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سیکیورٹی خدشات، پی ایس ایل شیڈول میں تبدیلی کا امکان، بقیہ میچز اب کہاں ہوں گے؟
برطانوی خبر رساں ادارے کی خبر میں بتایا گیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے جموں میں شدید دھماکوں کی آوازیں سنائی دی ہیں۔ اکھنور، سامبا،کٹھوعہ اور دیگر علاقوں میں دھماکے ہوئے۔
بھارتی میڈیا بھی دعویٰ کررہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں پٹھان کوٹ، راجھستان اور پنجاب میں دھماکے ہورہے ہیں۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان نے میزائل حملوں سے بارڈر سیکیورٹی فورسز، ایئرپورٹس اور آرمی کیمپس کو نشانہ بنایا ہے۔
تاہم پاکستان کے سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں حملے سے متعلق خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ بھارتی میڈیا پر مقبوضہ کشمیر پر حملے کی خبریں فیک اور جھوٹ ہیں، ان فیک خبروں کو پھیلانے کا مقصد یہ ناکام اور جھوٹا تاثر پیدا کرنا ہے کہ پاکستان بھی بھارت پر حملہ کر رہا ہے۔ ان جھوٹی خبروں کو پھیلا کر بھارت پاکستان پر اپنی ننگی جارحیت جاری رکھنے کا مسلسل جھوٹا جواز پیدا کرنا چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان حملہ کرے گا تو دنیا دیکھے گی اور گونج بھی سنائی دے گی، ڈی جی آئی ایس پی آر
بھارت نے اس سے قبل امرتسر پر حملے کی جھوٹی خبر چلائی، امرتسر پر حملے کی جھوٹی خبر پھیلانے کا مقصد سکھ برادری کو پاکستان کے خلاف کرنا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایف 16 بھارت پاکستان پٹھان کوٹ جنگ سیکیورٹی فورسز طیارے مقبوضہ کشمیر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایف 16 بھارت پاکستان سیکیورٹی فورسز طیارے بھارتی میڈیا کی خبر
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔