بھارتی میڈیا کے جھوٹ بے نقاب، مقبوضہ کشمیر پر حملے کی خبریں بے بنیاد قرار
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سیکیورٹی ذرائع نے بھارتی میڈیا کی جانب سے مقبوضہ کشمیر پر پاکستانی حملے کی خبروں کو فیک اور من گھڑت قرار دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان جھوٹی خبروں کو پھیلا کر بھارت دنیا کو یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ پاکستان بھی جارحیت کر رہا ہے، تاکہ اپنی ننگی اور بلاجواز جارحیت کا جواز گھڑا جا سکے۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا کی جانب سے پھیلائی گئی ایسی خبریں مکمل طور پر بے بنیاد ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا مقصد محض عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنا اور اپنی اندرونی ناکامیوں پر پردہ ڈالنا ہے۔
ذرائع نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے، مگر بھارت کی جانب سے جارحیت کی صورت میں مؤثر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ سیکیورٹی اداروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسی افواہوں پر یقین نہ کریں اور صرف مستند ذرائع سے اطلاعات حاصل کریں۔
مزیدپڑھیں:راولپنڈی کے تینوں الائیڈ اسپتالوں میں ایمرجنسی ہائی الرٹ، ریہرسل بھی کی گئی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔