بوکھلاہٹ کی شکار بھارتی فوج نے ہجیرہ، فارورڈ کہوٹہ اور کھوئی رٹہ میں سول آبادی کو نشانہ بنایا،بھارتی فوج کاشہری آبادی پر بھاری ہتھیاروں کا استعمال ،5شہری شہید ہوگئے

پاک فوج کی دلیرانہ جوابی کارروائی سے لائن آف کنٹرول پر دھرمسال 2 پوسٹ بالمقابل بٹل سیکٹر میں بھاری نقصان کے بعد بھارتی فوج نے گھٹنے ٹیکتے ہوئے ایک بار پھر سفید جھنڈا لہرا دیا

بوکھلاہٹ کا شکار بزدل بھارتی فوج نے سول آبادی پر گولہ باری شروع کر دی، بلااشتعال فائرنگ سے 5 شہری شہید جبکہ 7زخمی ہوگئے ۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بزدل بھارتی فوج لائن آف کنٹرول پر شکست کھانے کے بعد شہری آبادی کو نشانہ بنانے لگی۔ بوکھلاہٹ کی شکار بھارتی فوج نے ہجیرہ، فارورڈ کہوٹہ اور کھوئی رٹہ میں سول آبادی کو نشانہ بنایا۔بھارتی فوج شہری آبادی پر بھاری ہتھیاروں کا استعمال کر رہی ہے جبکہ پاک فوج دشمن کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے میں مصروف ہیں، جوابی کارروائی میں بھارتی فوج کی توپیں خاموش ہوگئیں۔ لائن آف کنٹرول پر دھرمسال 2پوسٹ بالمقابل بٹل سیکٹر میں بھارتی فوج نے گھٹنے ٹیکتے ہوئے بھارتی فوج نے ایک بار پھر سفید جھنڈا لہرا دیا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارتی فوج کا سفید جھنڈا لہرانے کا مطلب شکست کو تسلیم کرنا ہے ، بھارتی فوجی کی بزدلانہ کارروائیوں کا پاک فوج موثر اور بھرپور جواب دے رہی ہے ۔دوسری جانب، پاک فوج نے بلا اشتعال فائرنگ کرنے پر بھارتی فوج کی کئی چیک پوسٹیں تباہ کر دی ہیں۔کیلر سیکٹر میں ڈوبہ مور پوسٹ، بٹالین ہیڈ کوارٹر سوجی اور پیر کانتھی سیکٹر میں جبار اینڈ ترکھیاں کمپلیکس مکمل تباہ ہوگئے ۔ ان پوسٹوں کی تباہی سے بھارتی فوج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔اسی طرح، پاک فوج نے بھارت کی دو مزید پوسٹیں تباہ کر دیں جس میں حاجی پیر سیکٹر میں بھارتی فوج کی رِنگ کنٹوئر پوسٹ اور پوکران مارٹر بگھسر پوسٹ شامل ہے ۔کیلر سیکٹر میں دشمن کی مہیری پوسٹ اور خالصہ ٹاپ جبکہ رکھ چکری سیکٹر میں دنا ٹاپ اور ماؤنڈ پوسٹ تباہ کی گئی۔پاک فوج کے تازہ ترین حملوں میں دشمن کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، لائن آف کنٹرول پر پے در پے پوسٹوں کی تباہی سے دشمن بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکا ہے ۔قبل ازیں، پاک فوج نے بلا اشتعال فائرنگ کرنے پر جوابی فائرنگ اور گولہ باری کی اور بھارتی فوج کے ہیڈکوارٹر کو تباہ کر دیا جبکہ بھارتی بٹالین ہیڈکوارٹر نانگا ٹک کو شدید نقصان پہنچا۔ حاجی پیر سیکٹر میں جھنڈا زیارت پوسٹ کو تباہ کیا۔واضح رہے کہ پاکستان اب تک بھارتی فوج کی درجنوں پوسٹیں تباہ کر چکا ہے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ سیکٹر متاثر, بس اڈے پر مسافروں میں نمایاں کمی
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا