دشمن کی ایل او سی پر گولہ باری، پاک فوج کا کرارا جواب، بھارتی پوسٹیں تباہ، دشمن فوج کو بھاری نقصان
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
بوکھلاہٹ کی شکار بھارتی فوج نے ہجیرہ، فارورڈ کہوٹہ اور کھوئی رٹہ میں سول آبادی کو نشانہ بنایا،بھارتی فوج کاشہری آبادی پر بھاری ہتھیاروں کا استعمال ،5شہری شہید ہوگئے
پاک فوج کی دلیرانہ جوابی کارروائی سے لائن آف کنٹرول پر دھرمسال 2 پوسٹ بالمقابل بٹل سیکٹر میں بھاری نقصان کے بعد بھارتی فوج نے گھٹنے ٹیکتے ہوئے ایک بار پھر سفید جھنڈا لہرا دیا
بوکھلاہٹ کا شکار بزدل بھارتی فوج نے سول آبادی پر گولہ باری شروع کر دی، بلااشتعال فائرنگ سے 5 شہری شہید جبکہ 7زخمی ہوگئے ۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بزدل بھارتی فوج لائن آف کنٹرول پر شکست کھانے کے بعد شہری آبادی کو نشانہ بنانے لگی۔ بوکھلاہٹ کی شکار بھارتی فوج نے ہجیرہ، فارورڈ کہوٹہ اور کھوئی رٹہ میں سول آبادی کو نشانہ بنایا۔بھارتی فوج شہری آبادی پر بھاری ہتھیاروں کا استعمال کر رہی ہے جبکہ پاک فوج دشمن کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے میں مصروف ہیں، جوابی کارروائی میں بھارتی فوج کی توپیں خاموش ہوگئیں۔ لائن آف کنٹرول پر دھرمسال 2پوسٹ بالمقابل بٹل سیکٹر میں بھارتی فوج نے گھٹنے ٹیکتے ہوئے بھارتی فوج نے ایک بار پھر سفید جھنڈا لہرا دیا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارتی فوج کا سفید جھنڈا لہرانے کا مطلب شکست کو تسلیم کرنا ہے ، بھارتی فوجی کی بزدلانہ کارروائیوں کا پاک فوج موثر اور بھرپور جواب دے رہی ہے ۔دوسری جانب، پاک فوج نے بلا اشتعال فائرنگ کرنے پر بھارتی فوج کی کئی چیک پوسٹیں تباہ کر دی ہیں۔کیلر سیکٹر میں ڈوبہ مور پوسٹ، بٹالین ہیڈ کوارٹر سوجی اور پیر کانتھی سیکٹر میں جبار اینڈ ترکھیاں کمپلیکس مکمل تباہ ہوگئے ۔ ان پوسٹوں کی تباہی سے بھارتی فوج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔اسی طرح، پاک فوج نے بھارت کی دو مزید پوسٹیں تباہ کر دیں جس میں حاجی پیر سیکٹر میں بھارتی فوج کی رِنگ کنٹوئر پوسٹ اور پوکران مارٹر بگھسر پوسٹ شامل ہے ۔کیلر سیکٹر میں دشمن کی مہیری پوسٹ اور خالصہ ٹاپ جبکہ رکھ چکری سیکٹر میں دنا ٹاپ اور ماؤنڈ پوسٹ تباہ کی گئی۔پاک فوج کے تازہ ترین حملوں میں دشمن کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، لائن آف کنٹرول پر پے در پے پوسٹوں کی تباہی سے دشمن بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکا ہے ۔قبل ازیں، پاک فوج نے بلا اشتعال فائرنگ کرنے پر جوابی فائرنگ اور گولہ باری کی اور بھارتی فوج کے ہیڈکوارٹر کو تباہ کر دیا جبکہ بھارتی بٹالین ہیڈکوارٹر نانگا ٹک کو شدید نقصان پہنچا۔ حاجی پیر سیکٹر میں جھنڈا زیارت پوسٹ کو تباہ کیا۔واضح رہے کہ پاکستان اب تک بھارتی فوج کی درجنوں پوسٹیں تباہ کر چکا ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔