پاک فضائیہ کے سربراہ کی معرکہ حق کے شہید اسکواڈرن لیڈر عثمان یوسف کے گھر آمد،سوگوار خاندان سے تعزیت
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
ایئرچیف مارشل ظہیراحمدبابر سدھو نے معرکہ حق کے دوران دشمن کے حملے میں شہید ہونے والے اسکواڈرن لیڈرعثمان یوسف کی رہائشگاہ کا دورہ کرکے سوگوار خاندان سے تعزیت اورفاتحہ خوانی کی۔ ایئرچیف نے بھارتی جارحیت میں شہید اسکواڈرن لیڈر عثمان یوسف کو بھرپور خراج عقیدت پیش کیا۔اسکواڈرن لیڈر عثمان یوسف آپریشنل ایئربیس پر دشمن کے حملے میں شہید ہوئے تھے، اس موقع پر پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر مارشل ظہیر بابر سدھو نے کہا کہ شہدا کی خدمات، قربانیاں ہمیشہ قوم کی یادوں میں نقش رہیں گی۔ایئرچیف نے کمبائنڈ ملٹری اسپتال راولپنڈی کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے جوانوں سمیت زخمی شہریوں سے ملاقات کی، ایئرچیف ظہیراحمدبابر نیزخمی اہلکاروں کے غیرمتزلزل عزم اور حوصلے کوسراہا۔اس موقع پر ایئرچیف نے کہا کہ پاک فضائیہ ہر قیمت پر فضائی سرحدوں کا دفاع یقینی بنائیگی، فرض کی ادائیگی کے دوران اہلکاروں کی بہادری اور عزم قابل تعریف ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔