جب بلوچستان کا ذکر آتا ہے تو ذہن میں پسماندگی، شورش، محرومیاں اور لاپتہ افراد کا تصور ابھرتا ہے، مگر ان اندھیروں میں ایک روشن چراغ ’’کشش بلوچ ‘‘کے نام سے جل اٹھا ہے، جو نہ صرف رخشان ڈویژن کی بلکہ پورے بلوچستان کی بیٹیوں کے لیے امید کی علامت بن چکی ہیں۔
ضلع نوشکی 25 سالہ ہندو لڑکی کشش بلوچ نے صوبائی مقابلے کا (پی ایس سی) امتحان پاس کر کے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے، وہ رخشان ڈویژن سے پہلی خاتون اسسٹنٹ کمشنر بن گئی ہیں۔ یہ کامیابی محض ایک انفرادی کارنامہ نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر بلوچستان کے نوجوانوں، خصوصاً خواتین کو مواقعے دیے جائیں تو وہ بھی ملک کے اعلیٰ ترین اداروں میں جگہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
کشش بلوچ نے ابتدائی تعلیم نوشکی سے حاصل کی اور بعد ازاں بلوچستان یونیورسٹی کوئٹہ سے سوشیالوجی اور پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرزکیا۔ ان کی علمی جستجو نے انھیں وقت سے پہلے ہی مقابلے کے امتحان کی تیاری کی طرف راغب کیا۔
یہی نظم، ہمت اور بصیرت انھیں اس مقام تک لے آئی ہے جہاں آج وہ کھڑی ہیں۔ کشش بلوچ کا کہنا ہے کہ سول سروس میں شامل ہونا ان کے لیے صرف ایک کامیابی نہیں بلکہ ایک خواب کی تعبیر ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ وہ اس پلیٹ فارم سے اپنے صوبے اور عوام کی خدمت کریں، خاص طور پر ان نوجوانوں کے لیے جو وسائل کی کمی اور معاشرتی رکاوٹوں کے باعث پیچھے رہ جاتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ سول سروس میں شمولیت کو ایک بڑے اعزاز کے ساتھ ایک بھاری ذمے داری بھی سمجھتی ہیں۔ ان کی نظر میں سول سروس صرف ایک پیشہ نہیں، بلکہ عوامی خدمت کا مقدس وسیلہ ہے، وہ اس نظام کا ایسا چہرہ بننا چاہتی ہیں جو اقلیتوں، خواتین اور پسماندہ طبقات کی آواز بنے۔
ان کی کامیابی ان تمام والدین کے لیے بھی ایک پیغام ہے جو بیٹیوں کو تعلیم سے محروم رکھتے ہیں۔ کشش بلوچ آج اس مقام پر ہیں کیونکہ ان کے والدین نے ان پر یقین کیا، انھیں تعلیم دلوائی، خواب دیکھنے دیے اور ان خوابوں کی تعبیرکے لیے راستہ ہموارکیا۔ بلوچستان امورکے ماہر صحافی عزیز سنگھور لکھتے ہیں کہ آج جب بلوچستان مختلف بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے، تو کشش بلوچ جیسے کردار ہمارے لیے نشانِ امید ہیں۔
بلوچستان کو مزید کشش بلوچوں کی ضرورت ہے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم تعلیم، مساوات اور مواقع کی فراہمی کو ہر فرد کا بنیادی حق تسلیم کریں۔ کشش بلوچ کی کامیابی محض ایک تعلیمی یا پیشہ ورانہ سنگِ میل نہیں، بلکہ ایک تہذیبی استعارہ ہے۔ ان کا تعلق ہندو دھرم سے ہے، جو بلوچستان کی صدیوں پرانی مذہبی ہم آہنگی، تنوع اور قبولیت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔
مہرگڑھ کی قدیم تہذیب سے لے کر آج تک، بلوچستان کی سر زمین پر مختلف مذاہب، اقوام اور ثقافتوں نے ایک دوسرے کے ساتھ جینے کا سلیقہ سیکھا ہے۔ کشش بلوچ اسی روایت کی ایک تازہ مثال ہیں۔ کشش بلوچ کی کامیابی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ بلوچستان میں اگر وسائل، تعلیم اور اعتماد دیا جائے تو یہاں کے نوجوان صرف صوبے نہیں، بلکہ ملک اور انسانیت کی خدمت کے لیے نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کی شخصیت مذہبی رواداری، تعلیمی وقار اور خدمتِ خلق کا حسین امتزاج ہے۔
بلوچستان میں تعلیمی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور یہ بلوچستان کی پسماندگی کی ایک بڑی وجہ بن چکی ہے۔ یہاں کی شرحِ خواندگی 46 فیصد ہے، جس میں 63 فیصد مرد اور 26 فیصد خواتین پڑھائی میں حصہ لیتی ہیں۔ یہ اعداد و شمار خود ہی بتاتے ہیں کہ خواتین کی تعلیم کی صورتحال خاص طور پر کمزور ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق 65 فیصد دیہی لڑکیاں کبھی اسکول نہیں گئیں۔ بلوچستان میں 36 لاکھ بچوں میں سے صرف 13 لاکھ بچے اسکول جاتے ہیں اور ان میں اکثریت لڑکوں کی ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے صرف دور دراز علاقوں میں محدود اسکولز موجود ہیں، اور اس کے علاوہ صرف درجن بھر ڈگری کالجز ہیں۔ گیارہ اضلاع میں تو لڑکوں کے لیے بھی ڈگری کالجز نہیں ہیں۔
بلوچستان میں 900 گھوسٹ اسکولز ہیں، جہاں کوئی تعلیمی سرگرمی نہیں ہو رہی۔ مزید یہ کہ ڈیڑھ لاکھ اساتذہ کا ریکارڈ بھی موجود نہیں، اور 3 لاکھ طلبہ کا جعلی ریکارڈ بنایا گیا ہے، جو کہ تعلیم کے معیار اور اداروں کی کرپشن کی بدترین مثال ہے۔
بلوچستان کے 36 فیصد اسکولز میں پینے کا صاف پانی نہیں ہے، جب کہ 56 فیصد اسکولوں میں بجلی کی فراہمی نہیں ہے۔ تعلیمی اداروں کی بنیادی سہولتوں کا فقدان طلبہ کی تعلیم میں رکاوٹ ڈال رہا ہے اور ان کی تعلیمی ترقی کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ بلوچستان کے کالجز اور یونیورسٹیز کی صورت حال بھی انتہائی خراب ہے۔ بولان میڈیکل یونیورسٹی میں 6 ماہ سے تدریس معطل ہے۔ ان میں سے اکثر اداروں میں فیسوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، ہاسٹلز کی کمی ہے۔
عزیز سنگھور مزید لکھتے ہیں کہ بلوچستان کی سیاسی تاریخ پر اگر ایک تنقیدی نگاہ ڈالی جائے تو یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ سردار اور نواب طبقہ ہمیشہ سے کسی نہ کسی سامراجی طاقت کا آلہ کار رہا ہے۔ برطانوی سامراج کے دور میں انھی سرداروں نے انگریز سرکار کی وفاداری کا دم بھرا، مراعات حاصل کیں اور بلوچ عوام کو محکوم بنائے رکھا۔ آج یہی طبقہ بلوچستان کے اقتدار پر قابض ہے۔ صرف اس صدی کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقائق ظاہر ہوتے ہیں کہ بلوچستان میں چلنے والی سیاسی تحریک ایک انقلابی اور عوامی تحریک کے طور پر ابھری ہے جس میں نوجوانوں میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے۔ جس کی سب سے بڑی خوبی اس کا نظریاتی ڈھانچہ ہے۔
یہ تحریک کارل مارکس کے طبقاتی نظریے پر استوار ہے، جس نے بلوچ سماج میں رائج صدیوں پرانے سرداری نظام کو چیلنج کیا اور مظلوم طبقات کو متحرک کیا۔ مارکسی فلسفہ نے بلوچ نوجوانوں کو طبقاتی شعور دیا، جس کے نتیجے میں تحریک کی قیادت اب مراعات یافتہ اشرافیہ کے بجائے متوسط اور نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکنوں کے ہاتھ میں ہے۔
اسلام آباد کے آئین ساز اداروں کے ماہرین کو بلوچستان کے سماج کے نئے حقائق کا ادراک کرنا چاہیے، اب نوجوان قیادت خواتین کے پاس ہے۔ ان نوجوانوں سے بات چیت کا کوئی راستہ نکالا جانا چاہیے۔ بلوچستان کے نوجوانوں میں ٹیلنٹ ہی ٹیلنٹ ہے۔ اس ٹیلنٹ سے فائدہ اٹھانے کے لیے نوآبادیاتی سوچ تبدیل کرنا ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بلوچستان میں بلوچستان کی بلوچستان کے کشش بلوچ کی تعلیم ہیں کہ رہا ہے کے لیے اور ان
پڑھیں:
کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
مراد راس صاحب سابق صوبائی وزیر ہیں، لاہور سے 2 بار رکن اسمبلی رہے۔ پہلے تحریک انصاف سے تعلق تھا، انہی کے دور میں صوبائی وزارت ملی۔ اب تحریک استحکام پاکستان میں شامل ہیں۔ ان کے بارے میں عمومی تاثر یہی تھا کہ پڑھے لکھے آدمی ہیں، نام کےساتھ ڈاکٹر بھی لگتا ہے، معلوم نہیں ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں یا پی ایچ ڈی۔
بہرحال ان کے حالیہ ٹوئٹ نے ہر ایک کو حیران کر دیا۔ موصوف نے ٹوئٹ کیا، ‘لاہور ان عید کی چھٹیوں میں بہت پرسکون تھا، خاص کر ٹریفک بہت کم تھی۔ یہ آؤٹ سائیڈرز ہیں جنہوں نےلاہور تباہ کیا ہے‘۔
بات سادہ ہے مگر غلط ہے، بلکہ بہت غلط ہے۔ نرم سے نرم الفاظ میں اس ٹوئٹ کو غیر ذمہ دارانہ، افسوسناک اور تکلیف دہ کہا جا سکتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ ٹوئٹ کرنے والا شخص پڑھا لکھا نہیں، اسےدنیا کا قطعی علم نہیں، کسی بھی بڑے بین الاقوامی شہر کا تو شاید اس نے نام بھی نہیں سنا۔ سب سےبڑھ کر یہ کہ اسے لاہور کی ہسٹری کا بھی کچھ نہیں پتا۔
یہ بھی پڑھیں: بڑے شہر نگل جاتے ہیں
خاکسار معروف معنوں میں لاہوری نہیں، آبائی شہر احمدپورشرقیہ، ضلع بہاولپور ہے۔ تاہم میں 31،32 برسوں سے لاہور میں مقیم ہوں، میرے بچے یہیں پیدا ہوئے، یہیں پر پلے بڑھے ہیں، الحمدللہ۔ میں کوئی 10، 12 برسوں سےہر عید لاہور ہی میں کرتا ہوں۔ اپنے آپ کو لاہوری تصور کرتا ہوں، اس لیے کہ اس شہر نے مجھے بے پناہ محبت، عزت دی۔ جو تھوڑی بہت پہچان ہے، وہ بھی اسی شہر کی مرہون منت ہے۔ لاہور کی سب سے خوبصورت بات یہاں کے مکین یعنی لاہوری ہیں۔ جتنی اوپن نیس، کشادگی اور کھلا ڈلا پن میں نے لاہوریوں میں دیکھا، اس کی مثالیں کم ملتی ہیں۔ باہر سے آنے والوں کو یہ باہیں پھیلا کر قبول کرتے اور اپنے دل میں سمو لیتےہیں۔
ایسے میں بہت افسوسناک امر ہے کہ ڈاکٹر مراد راس جیسے لوگ جو گجرات میں پیدا ہونے کی وجہ سے گجراتی شناخت بھی رکھتے ہیں، پرانےلاہوریے نہیں ، اپنے ایک نفرت انگیز ، متعصبانہ ٹوئٹ کی وجہ سے پورے لاہور شہر کے مکینوں کی بدنامی کا باعث بنے ہیں۔ مراد راس کا یہ ٹوئٹ لاہور اور لاہوریوں کی ترجمانی نہیں کرتا۔
مزید پڑھیے: نریندر مودی صحافیوں سے کیوں خوفزدہ ہیں؟
چلیں بات شروع ہوئی ہے تو ویسے ہی اس کا بھی جائزہ لے لیتے ہیں کہ لاہور کو وہ لاہور بنایا کس نے ہے جس پر اس کی دنیا بھر میں دھوم ہے۔ سب سےبڑا سہرا تو مغلوں کے سر جاتا ہے جو سمرقند اور کابل سے آئے تھے۔ مقبرہ جہانگیر، کامران کی بارہ دری، شالیمار باغ، مسجد وزیر خان وغیرہ کس نے بنائے؟باہر سے آنے والے مغلوں نے ۔انارکلی بازار کا نام کس کے نام پر ہے؟ ایک ایسی لڑکی کے نام پر جو اس شہر کی اصل باشندہ بھی نہیں تھی۔ لاہور کا مال روڈ، جی پی او، ہائی کورٹ، شہر کا سب سے حسین سرسبز علاقہ ماڈل ٹاؤن، یہ سب ’باہر والوں‘ نے بنائے۔ یہ سب باہر سے آئے اوراس شہر کو اپنے خون پسینے سے تعمیر کر گئے۔ لاہور کے کھانوں، کلچر میں بہت بڑا حصہ کشمیریوں کا ہے۔ یہ کشمیر سے لاہور اور امرتسر میں آ کر آباد ہوئے۔ تقسیم کے بعد امرتسری(امبرسری) کشمیری مسلمان بھی لاہور آ گئے اور آج امبرسریوں کےکھابے ملک بھر میں مشہور ہیں۔
اب ذرا دنیا کو دیکھیں۔
یورپ کے سب سے اہم شہر لندن کا میئر آج صادق خان ہے، پاکستانی نژاد، جنوبی لندن کے ایک بس ڈرائیور کا بیٹا۔ لندن والے اس پر فخر کرتے ہیں کیونکہ ان کا شہر ہمیشہ سے باہر سے آنے والوں کا گھر رہا ہے۔ رومن آئے، نارمن آئے، فرانسیسی آئے، یہودی آئے، ہندوستانی آئے، پاکستانی آئے، ہر آنے والے نے اس شہر میں کچھ جوڑا۔ اگر لندن نے کسی موڑ پر یہ سوچ لیا ہوتا کہ ’باہر والوں نے ہمیں خراب کر دیا‘ تو آج وہ ایک گمنام صوبائی قصبہ ہوتا، دنیا کا مالیاتی مرکز نہیں۔
نیویارک کو دنیا سٹی آف امیگرنٹس کہتی ہے۔ اب تو اس کا میئر ظہران ممدانی بھی ایک امیگرنٹ ہی ہے۔ وہاں ایلس آئی لینڈ پر ایک میوزیم ہے جو ان لاکھوں تارکین وطن کو خراج تحسین پیش کرتا ہے جو یورپ، ایشیا، افریقہ سے جہاز پر سوار ہو کر آئے اور امریکا کو امریکا بنایا۔ انہیں شرمندگی نہیں دلائی گئی، ان کی قربانی کو سنہری حروف میں لکھا گیا۔ نیویارک کی وہ عمارتیں جنہیں آج دنیا دیکھتی ہے، ان کی ایک ایک اینٹ کے پیچھے کسی ’باہر والے‘ کا پسینہ ہے۔
دبئی کی مثال اور بھی چونکا دینے والی ہے۔ وہاں اصل اماراتی شہری آبادی کا صرف 10 سے 15 فیصد ہیں۔ 85 سے 90 فیصد لوگ ’باہر والے‘ ہیں، پاکستانی، ہندوستانی، فلپینی، بنگلہ دیشی، یورپی۔ دبئی نے انہیں دھتکارا نہیں، خوش آمدید کہا۔ نتیجہ سامنے ہے، ریت کے ایک ٹیلے پر کھڑا ہونے والا شہر آج دنیا کا سب سے چمکدار شہر ہے۔ اگر عرب امارات کے بادشاہوں نے بھی یہ سوچا ہوتا کہ باہر والے ہمیں خراب کریں گے تو دبئی آج وہ ترقی یافتہ دبئی نہ ہوتا۔
واپس لاہور آتے ہیں۔
آج لاہور میں جو کاروبار ہے، جو محنت ہے، جو تعمیر ہے، اس میں گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور، جھنگ، ڈیرہ غازی خان سے آنے والوں کا حصہ اتنا ہی ہے جتنا کسی نسل در نسل لاہوری کا۔ وہ مزدور جو ڈیفنس کی کوٹھیاں بناتا ہے، وہ ریڑھی والا جو گلبرگ کو پھل فروخت کرتا ہے، وہ درزی جو اقبال ٹاؤن، ٹاؤن شپ میں سلائی کرتا ہے، یہ سب ’باہر والے‘ ہیں۔ انہیں نکال دیں تو لاہور کی رونق ایک دن میں ختم ہو جائے۔
ایک بات اور۔ لاہور کا ٹریفک اور آلودگی عید پر اس لیے کم ہوئی کہ ’باہر والے‘ اپنے گھروں کو گئے۔ یعنی اصل مسئلہ آنے والوں کا نہیں، شہر کی ناقص منصوبہ بندی کا ہے۔ وہ منصوبہ بندی جو انہی ’اندر والے‘ حکمرانوں کی دین ہے جو دہائیوں سے لاہور پر راج کرتے آئے ہیں۔
آخری بات، مراد راس صاحب خود گجرات میں پیدا ہوئے، تعلیم امریکا میں حاصل کی، ان کی امریکی شہریت کی بات بھی چلتی رہی ہے۔ لاہور کی نشست سے سیاست کی۔ تو پھر وہ ’اندر والے‘ کیسے اور گجرات سے آنے والا مزدور ’باہر والا‘ کیسے؟
مزید پڑھیں: کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی
شہر اینٹوں سے نہیں، لوگوں سے بنتے ہیں۔ اور لوگ ہر طرف سے آتے ہیں۔ یہی کسی شہر کی اصل دولت ہے۔ درحقیقت اہل دانش کہتےہیں کہ ترقی ہی وہ گلو یا گوند ہے جو باہر سےلوگوں کو، سرمایے کو اور اہل ہنر کو کھینچتی ہے۔ ترقی دراصل وہ گریوٹی ہے جو اپنی کشش اور قوت سے باہروالوں کو اندر لاتی ہے اور ان کی وجہ سے وہ شہر جگمگاتا ہے۔ جس شہر میں باہر سے لوگ جانا بند کر جائیں، وہ کسی کمھلائے ہوئے پھول کی طرح ہوجاتا ہے۔ پھر اسے زوال سے کوئی نہیں روک سکتا۔ کاش مراد راس جیسے لوگ قوت بینا رکھتے، دل کی آنکھیں ہی کھول کر جینا سیکھ لیتے۔ تب ایسی دل آزاری والے ٹوئٹ ہرگز نہ لکھے جاتے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔
آؤٹ سائیڈرز احمد پور شرقیہ لاہور لاہور کس نے بنایا لاہور کے اندر والے باہر والے لندن کا میئر مراد راس نیویارک کا میئر