Express News:
2026-06-03@02:39:55 GMT

پانی، دہشت گردی اور پاکستان

اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT

وزیراعظم شہباز شریف نے جمعہ کو تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں گلیشیئرز کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس (آئی جی سی پی 2025) سے خطاب کیا، اپنے خطاب میں انھوں نے گلیشیئرز کے تحفظ کو پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدے کو اپنے تنگ نظر سیاسی مفادات کے لیے یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا فیصلہ قابل مذمت ہے۔

پانی کوہتھیار کے طور پر بھی استعمال کیا جا رہا ہے، پاکستان اپنے حصے کے پانی پر کوئی سمجھوتہ کرے گا نہ ہی بھارت کو ریڈ لائن کراس کرنے دے گا۔ وزیراعظم نے نشاندہی کی کہ جس طرح غزہ میں مہلک ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال انسانیت پر کاری ضرب ہے، اسی طرح پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی نئی روش عالمی برادری کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

دوشنبے میں گلیشیئرز کے تحفظ کے حوالے سے جو عالمی کانفرنس ہوئی ہے، وہ انتہائی اہمیت کی حامل ہے خصوصاً پاکستان کے لیے گلیشیئرز کی اہمیت شاید دیگر تمام مالک سے زیادہ ہے کیونکہ پاکستان میں پانی کا دارومدار گلیشیئرز پر ہے اور یہ حقیقت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ عالمی سطح پر ماحولیاتی تبدیلیو ں کے اثرات کے نتیجے میں پاکستان کے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔

وزیراعظم نے بھی اس حوالے سے اپنے خطاب میں بڑی صراحت کے ساتھ حقائق بتائے ہیں۔ انھوں نے اس کانفرنس میں خطاب کے دوران واضح کیا کہ ترقی یافتہ ممالک ماحولیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنی ذمے داریاں پوری کریں۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوں کا سب سے زیادہ شکار ہو رہے ہیں۔ بے موسمی بارشوں اور گلیشیئرز کے پگھلنے کے نتیجے میں دریاؤں اور ندی نالوں میں سیلاب آ رہے ہیں۔ پاکستان بھی گزشتہ کئی سالوں سے سیلاب اور بارشوں سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ عالمی برادری نے اس حوالے سے جو وعدے کیے ہیں وہ یقینا پورے ہونے چاہئیں۔

وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ پاکستان پولورینجز کے بعد دنیا کا سب سے بڑا گلیشیئرز والا علاقہ ہے، پاکستان میں 13ہزار گلیشیئرز ہیں،گلیشیئرز کا تحفظ ہمارے لیے بہت اہم ہے، پاکستان کے پانی کا نصف حصہ گلیشیئرز سے حاصل ہوتا ہے،انڈس ریور سسٹم ہماری لائف لائن ہے اورہماری تہذیب، ثقافت اور معیشت کا اس پر دارومدار ہے ، پاکستان کے 5 بڑے دریاؤں کا پانی گلیشیئرزکا مرہون منت ہے۔

بھارت نے پاکستان کو حال ہی میں پانی کے بحران میں مبتلا کرنے کی دھمکی دی ہے اور اس نے سندھ طاس معاہدے کو بھی یکطرفہ معطل کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ پاکستان میں پانی کی جو صورت حال ہے، اس کی بناء پر پاکستان کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ پانی پاکستان کی لائف لائن ہے۔

بھارت اگر اس معاملے میں اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہتا ہے تو اس کا نتیجہ کیا ہو گا؟ یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے یہ انتباہ بھی کیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے نتیجے میں پاکستان کے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں ، 2022میں ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سیلاب اور طوفانی بارشوں کا سامنا کرنا پڑا، ملک بھرمیں لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ، ہزاروں گھرملیا میٹ ہوگئے اور انفرااسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا فضا میں زہریلی گیسوں کے اخراج میں حصہ نصف فیصد سے بھی کم ہے لیکن پاکستان دنیا کے ان 10ملکوں میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث ایکو سسٹم بھی متاثر ہو رہا ہے، ترقی یافتہ ملک ماحولیاتی تبدیلیوں کے چیلنجزسے نمٹنے کے لیے اپنی ذمے داریاں پور ی کریں، اس سلسلے میں فوری اورعملی اقدامات ناگزیر ہیں، ترقی یافتہ ممالک ترقی پذیرملکوں میں ارلی وارننگ سسٹم اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں سرمایہ کاری بڑھائیں کیونکہ مستقبل میں بھی ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث بڑی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف بالکل واضح اور دوٹوک رہا ہے۔ ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے جو بھی عالمی سطح پر کانفرنسیں ہوتی ہیں، پاکستان نے اس میں ہمیشہ اپنا مؤقف واضح اور دوٹوک انداز میں پیش کیا ہے۔ پاک بھارت حالیہ جنگ کے بعد وزیراعظم اور کابینہ کے ارکان غیرملکی دورے بھی کر رہے ہیں۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف ترکیہ، ایران، آذربائیجان اور تاجکستان کا اپنا دورہ مکمل کرکے گزشتہ روز وطن واپس پہنچ گئے۔ بھارت نے پاکستان کے لیے خاصے سنگین حالات پیدا کر دیے ہیں۔ گزشتہ روز پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھارت کی جانب سے آبی جارحیت کو غیر قانونی اور ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ہر قسم کی جارحیت کو ناکام بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کی ہر قسم اور ہر شکل کے خلاف قومی جدوجہد منطقی انجام تک پہنچے گی۔ پاکستان کو کبھی بھی دبایا نہیں جا سکتا، دشمن کے عزائم کو مکمل طور پر شکست دی جائے گی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیرنے گزشتہ روز کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کیا اور وہاں زیرِ تربیت افسران اور فیکلٹی سے خطاب کیا۔

انھوں نے ابھرتے ہوئے تنازعات کی نوعیت پر روشنی ڈالی اور خاص طور پر بھارت کی پاکستان کے خلاف بلااشتعال جارحیت کی خطرناک روش کو اجاگر کیا۔ انھوں نے کہا پاکستان ہر قسم کی جارحیت کو ناکام بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری کوششوں کو سبوتاژ کرنے والی دشمنانہ سازشوں کو مکمل طور پر شکست دی جائے گی۔ انھوں نے بھارت کی جانب سے آبی جارحیت ( ہائیڈرو ٹیررازم ) کو غیر قانونی اور ناقابلِ قبول قرار دیا۔

پاک فوج نے حالیہ پاک بھارت جنگ میں اپنی صلاحیتوں کو ثابت کر دیا ہے۔ پاکستان اس وقت اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے برسرپیکار ہے۔ پاکستان کے اندر دہشت گرد اور ان کے سہولت کار وطن عزیز کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے لیے سرگرم عمل ہیں جب کہ پاک فوج ان کی سرکوبی کے مشن پر گامزن ہے۔

گزشتہ روز فتنۃ الہندوستان کے دہشت گردوں نے بلوچستان کے شہر سوراب میں بینک کو لوٹ لیا اور مختلف سرکاری افسران کے گھر جلادیے، دفاع کرتے ہوئے اے ڈی سی ریونیو شہید ہوگئے۔ واقعات کے مطابق گزشتہ روز شام کے وقت بیس سے تیس دہشت گرد موٹرسائیکلوں پر بازار میں داخل ہوئے، سافٹ ٹارگٹ جیسا کہ بینک اور مارکیٹوں کو نشانہ بنایا، بازار میں عام بلوچ خواتین اور بچوں پر بھی تشدد کیا، بچوں اور عورتوں کو بچانے کے دوران اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے بلیدہ سے تعلق رکھنے والے اور سوراب کے اے ڈی سی آر ہدایت اللہ بلیدی نے جام شہادت نوش کیا جب کہ ایف سی کو آتا دیکھ دہشت گرد فرار ہوگئے۔فتنۃ الہندوستان نے بلوچ علاقوں کو اور بلوچ خواتین و بچوں کو ٹارگٹ کر کے ایک دفعہ پھر ثابت کیا کہ ان انڈین سپانسرڈ دہشت گردوں کا بلوچستان اور بلوچ روایات سے کوئی تعلق نہیں۔

دہشت گردوں نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کو خصوصی طور پر ٹارگٹ کر رکھا ہے۔ ان دونوں صوبوں کی افغانستان کے ساتھ طویل سرحد ہے۔ پاکستان میں جو دہشت گرد گروہ برسرپیکار ہیں، وہ مختلف ناموں اور بیانیوں کے تحت کام کر رہے ہیں۔

کچھ گروہ مذہبی لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں جب کہ کچھ گروہ قوم پرستی کے لبادے میں قتل وغارت کر رہے ہیں۔ ان گروہوں کا آپس میں پورا رابطہ ہے اور ان کی ایجنڈا سیٹنگ بھی ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہے۔ پاکستان کے اندر ان گروہوں کے سہولت کار اور مخبر بھی موجود ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو یہ گروہ پاکستان کے اندر کسی قسم کی واردات نہیں کر سکتے۔

پاکستان کے سسٹم کے اندر بھی ان گروہوں نے نقب لگا رکھی ہے جب کہ سیاست، اہل علم، ذرایع ابلاغ، بزنس اور پروفیشنلز کے اندر بھی ان کے ہمدرد مختلف شکلوں میں موجود ہیں۔ یوں دہشت گردی ایک پیچیدہ اور تہہ در تہہ اپنی جڑیں بچھائے ہوئے ہے۔ پاکستان کے لیے یہ لڑائی بیرونی حملوں سے بھی زیادہ خطرناک اور پیچیدہ ہے۔

پاکستان کو یہ جنگ جیتنے کے لیے گہری منصوبہ بندی، اطلاعاتی نیٹ ورک اور پروفیشنل ریاستی مشینری کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج اور سیکیورٹی ادارے دہشت گردوں کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ دہشت گردوں کے سہولت کاروں، ان کے فنانسرز، ان کے نظریاتی سہولت کاروں کو مارجنلائز کرنے کے لیے ملک کی سیاسی قیادت، دینی طبقے اور اہل علم کو اپنی ذمے داریاں پوری کرنے کے لیے آگے آنا ہو گا۔ پاکستان اگر دہشت گردی اور اس کو تقویت اور زندگی دینے والی قوتوں پر قابو پانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو بیرونی دشمنوں سے مقابلہ کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ماحولیاتی تبدیلیوں کے پاکستان کے لیے پاکستان میں گلیشیئرز کے کہ پاکستان شہباز شریف گزشتہ روز حوالے سے انھوں نے کے لیے ا رہے ہیں کے خلاف نہیں ہے کے اندر رہا ہے کہ پاک ہے اور

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا