اسلام آباد:

سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی نے آئندہ مالی سال2025-26 کیلیے1000ارب روپے مالیت کے وفاقی ترقیاتی بجٹ، معاشی ترقی کا ہدف4.2 فیصد مقرر کرنے اور دیگر اہم معاشی اہداف کی منظوری دیدی ہے۔

اب رواں ہفتے ہی وزیر اعظم کی زیر صدارت ہونیوالے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں پی ایس ڈی پی کو حتمی منظوری کیلیے پیش کیا جائیگا جس کے بعد یہ وفاقی بجٹ کے ساتھ پارلیمنٹ میں پیش ہوگا۔

وفاقی وزیر احسن اقبال کی زیرِ صدارت سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ اے پی سی سی نے مجموعی طور پر4.

1 ہزار ارب روپے کے قومی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی، جس میں سے 2.8 ہزار ارب روپے چاروں صوبوں کے پاس موجود مالی وسائل سے خرچ کیے جائیں گے۔

تاہم وسائل کی شدید قلت کے باوجود سندھ حکومت نے وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) سے 86 ارب روپے کا حصہ حاصل کر لیا۔ ایک وفاقی وزیر کے مطابق پیپلز پارٹی نے حکومت کی اتحادی ہونے کا فائدہ اٹھایا، جس کی حکومت کو بجٹ کی منظوری کیلئے حمایت درکار ہے۔

بھارت کی جانب سے پانی بند کرنے کی دھمکی کے باوجود حکومت نے پانی کے شعبے کا بجٹ 45 فیصد یا 119 ارب روپے کم کر کے محض 140 ارب روپے تجویز کیا ہے۔ برآمدات کا ہدف 35 ارب ڈالر اور بیرونِ ملک پاکستانیوں سے 39 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر کی توقع ہے۔

ذرائع کے مطابق ترقیاتی منصوبوں پر ایک ہزار ارب روپے خرچ کرنے کا پلان ہے۔ رواں مالی سال کے مقابلے میں صوبے609 ارب روپے زیادہ خرچ کریں گے۔ وفاقی حکومت ترقیاتی منصوبوں کیلئے بیرون ملک سے270 ارب قرض لے گی اس کے علاوہ چاروں صوبے بھی802ارب روپے کا بیرونی قرضہ لیں گے۔ پنجاب حکومت ترقیاتی منصوبوں پر1190 ارب خرچ کریگی۔

سندھ حکومت نے887ارب روپے کا ترقیاتی پروگرام تیارکیا ہے، خیبرپختونخوا کی جانب سے 440 ارب روپے خرچ کرنے کا پلان ہے جبکہ بلوچستان حکومت اگلے سال ترقیاتی منصوبوں پر280ارب خرچ کریگی۔ آئندہ مالی سال کیلئے معاشی شرح نمو کا ہدف4.2 فیصد رکھنے کی تجویز ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ رواں سال معاشی شرح نمو3.6فیصد ہدف کے مقابلے2.68 فیصد رہی،آئندہ مالی سال میں مہنگائی کا ہدف7.5فیصدمقررکرنے کی تجویز ہے، زرعی شعبے کی ترقی کا ہدف 4.5 فیصد رکھا جائے گا، گندم، چاول سمیت اہم فصلوں کا ہدف6.7 فیصد مقرر کرنیکی تجویز ہے اسی طرح کاٹن جننگ کا ہدف سات فیصد، لائیوسٹاک ہدف 4.2 فیصد مقرر ہونے کا امکان ہے۔

صنعتی شعبے کا ہدف4.4فیصد،بڑی صنعتوں کا ہدف3.5فیصد،کان کنی کا ٹارگٹ 3فیصد رکھنے کی تجویز ہے۔ بجلی، گیس اور پانی سپلائی کا ہدف3.5فیصد مقرر کئے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ آئندہ سال تعمیراتی شعبے کا گروتھ ریٹ3.8فیصد، شعبہ خدمات کی ترقی کا ہدف 4فیصد، قومی بچت کا 14.3 فیصد،سرمایہ کاری بہ لحاظ جی ڈی پی14.7 فیصد، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا ہدف0.4فیصد رکھا جائیگا۔

پبلک انویسٹمنٹ ہدف3.2 اور نجی سرمایہ کاری کا ہدف 9.8 فیصد ہوگا۔ ذرائع کے مطابق این ایچ اے کو آئندہ مالی سال228ارب، پاور ڈویژن کو 104ارب، واٹر ریسورسز ڈویژن کو140ارب، سپارکو کو24ارب،کیبنٹ ڈویژن کو50ارب33کروڑ روپے ملیں گے۔ صوبوں اور سپیشل ایریاز کیلئے245 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، صوبائی نوعیت کے منصوبوں پر 93ارب44کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے۔

انضمام شدہ اضلاع کیلئے70ارب روپے سے زائد مختص کئے جانے کی تجویز ہے، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کیلئے82ارب، فیڈرل ایجوکیشن اور پروفیشنل ٹریننگ کیلئے19ارب، ڈیفنس ڈویژن کیلئے11 ارب مختص کئے گئے ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو42ارب روپے، ریلوے ڈویژن کو24ارب، پلاننگ ڈویلپمنٹ کو12ارب روپے ملیں گے، نیشنل ہیلتھ کو12ارب روپے ترقیاتی فنڈز کی مد میں ملیں گے جبکہ وزارت داخلہ کو10ارب 90 کروڑ، وزارت اطلاعات کو 4 ارب 33 کروڑ ملیں گے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہمار ے آدھے اخراجات قرضوں کی ادائیگی میں جا رہے ہیں، بدقسمتی سے گزشتہ چند برسوں سے ترقیاتی بجٹ سکڑ رہا ہے، ہمیں گھمبیر صورتحال کا حل تلاش کرنا ہے، قومی سطح پر ریونیو میں اضافہ کرنا ہو گا، پائیدار ترقی کیلئے پالیسیوں کا تسلسل ضروری ہے، پاکستان دنیا میں سب سے کم ٹیکس اکٹھا کرنیوالے ممالک میں شامل ہے، حکومت ٹیکس چوروں کا پیچھا کر رہی ہے۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ترقیاتی بجٹ کیلئے ایک ہزار ارب روپے سے زائد مختص ہوں گے، بلوچستان کو250 ارب روپے دیئے جائیں گے، ترقیاتی بجٹ کی رقم رواں سال کے مقابلے میں100ارب روپے کم ہے۔ قومی نوعیت کے حامل اور پانی کے منصوبوں کو ترجیح دی جائیگی، بھارت کی دھمکیوں کے بعد دیامر بھاشا ڈیم کی جلد تعمیر لازم ہوگئی ہے، قراقرم ہائی وے فیز ٹو کے لیے فنڈز مختص کیے جائیں گے، این 25 کراچی کوئٹہ چمن شاہراہ کی تعمیر کی جائے گی، حیدر آباد سکھر موٹروے بھی ترجیحات میں شامل ہے۔

نصف سے زائد بجٹ قرضوں کی ادائیگی میں جائیگا،118سے زائد غیر ضروری منصوبے بندکئے ہیں۔ احسن اقبال نے کہا صوبائی نوعیت کے منصوبے اب صوبے خود مکمل کریں، اٹھارویں ترمیم کے باوجود وفاق صوبائی حکومتوں کے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں مدد کرتا آ رہا ہے۔

صوبوں کے پاس وسائل وفاق سے کہیں زیادہ ہیں، وفاقی منصوبوں کو قومی مفاد میں ترجیح دی جائے۔ اگر کوئی منصوبہ شامل نہ ہو سکا تو پیشگی معذرت، 1000 ارب کے اندر تمام وزارتوں کے منصوبے شامل کرنا مشکل تھا۔ ترقی کیلئے بجٹ کی فراہمی کم ہورہی ہے، ہماری آبادی بڑھ رہی ہے۔

ٹیکس چوری روکنے کیلئے ہرشہری کوچوکیداربن کرکھڑا ہونا ہوگا۔ احسن اقبال نے کہا ترقیاتی بجٹ میں کمی سے ملکی معاشی ترقی اور سٹریٹجک منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔ وفاقی پی ایس ڈی پی میں 120 ارب روپے کوئٹہ چمن کراچی (این 25) ایکسپریس وے کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

120 ارب روپے کی این-25 کے لیے مخصوص رقم نکال کر باقی 880 ارب روپے ترقیاتی کاموں کے لیے ناکافی ہیں اور یہ مستقبل کی ترقی کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔ پانی کا شعبہ حکومت کی ترجیح ہے، مگر موجودہ وسائل کے ساتھ دیامر بھاشا ڈیم کی تکمیل میں 20 سال لگ سکتے ہیں۔

حکومت کوشش کرے گی کہ یہ منصوبہ اگلے 3 سے 4 سالوں میں مکمل کیا جا سکے۔ اے پی سی سی کے ورکنگ پیپر کے مطابق رواں سال کے مقابلے میں مجموعی ترقیاتی بجٹ میں 300 ارب یا 8 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ چاروں صوبے اپنی سطح پر 28 فیصد زیادہ اخراجات کریں گے۔

وفاقی ترقیاتی بجٹ1 ہزار ارب روپے رکھا گیا ہے، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 400 ارب روپے کم ہے۔ اس میں سے 270 ارب روپے بیرونِ ملک سے قرض لے کر پورے کیے جائیں گے۔پنجاب سب سے زیادہ 1.19 ہزار ارب روپے خرچ کرے گا، جو پچھلے بجٹ سے 41 فیصد زیادہ ہے۔ خیبر پختونخوا 440 ارب روپے خرچ کرے گا (اضافہ 63 فیصد)، سندھ 887 ارب روپے (اضافہ 7 فیصد)، اور بلوچستان 280 ارب روپے (اضافہ 32 ارب روپے)۔کے پی کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے شکایت کی کہ وفاق نے کے پی کے لیے صرف 3 ارب روپے رکھے جبکہ سندھ کو 47 ارب روپے دیے گئے۔

پنجاب کو بھی وفاق کی جانب سے صرف 15 ارب روپے ملے۔ احسن اقبال نے جواباً کہا کہ ضم شدہ اضلاع کے لیے 70 ارب روپے بھی خیبر پختونخوا کو دیے جا رہے ہیں، اور یہ پالیسی کے مطابق ہے کہ وفاق صوبائی نوعیت کے منصوبوں پر کم خرچ کرے گا۔اے پی سی سی نے فیصلہ کیا کہ آئندہ مالی سال میں کوئی نیا صوبائی نوعیت کا منصوبہ پی ایس ڈی پی میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

1 ارب روپے تک کے منصوبے بھی آئی ایم ایف پروگرام مکمل ہونے تک منظور نہیں کیے جائیں گے۔باوجود مالی مشکلات کے، اب بھی 30 تا 40 فیصد پی ایس ڈی پی صوبائی نوعیت کے منصوبوں پر خرچ ہوتی ہے، جس سے قومی سطح کے اہم منصوبے متاثر ہو رہے ہیں۔

بجلی کے شعبے کا بجٹ 41 فیصد یا 72 ارب روپے کم کر کے 104 ارب روپے کیا گیا ہے۔ وفاقی وزارت تعلیم کا بجٹ 27 فیصد کمی کے بعد 20 ارب روپے اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا بجٹ 32 فیصد یا 21 ارب روپے کمی کے بعد 45 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔اسی کے ساتھ ساتھ، ارکانِ پارلیمنٹ کے ترقیاتی اسکیموں کے لیے 50 ارب روپے کا فنڈ ایس ڈی جیز پروگرام کے تحت برقرار رکھا گیا ہے۔احسن اقبال نے بتایا کہ وزارت نے 183 منصوبوں کی نشاندہی کی ہے جو تاخیر کا شکار ہیں، جنہیں جون 2025 تک بند یا محدود کرنیکی سفارش کی گئی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سال کے مقابلے میں ترقیاتی منصوبوں صوبائی نوعیت کے آئندہ مالی سال وفاقی ترقیاتی احسن اقبال نے ہزار ارب روپے کیے جائیں گے ارب روپے خرچ پی ایس ڈی پی ترقیاتی بجٹ ترقی کا ہدف ارب روپے کم کی تجویز ہے ارب روپے کا کے منصوبوں فیصد مقرر ڈویژن کو کے مطابق ملیں گے شعبے کا کے لیے کا بجٹ کے بعد بجٹ کی گیا ہے

پڑھیں:

امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے

اسکردو (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 02 جون 2026ء ) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا اور پورے جی بی کا دورہ کیا اور اسی وقت سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنا جی بی میں نے دیکھا ہے وہ کسی سیاستدان نے نہیں دیکھا۔

ساری جماعتوں کے دورے ملا کر بھی ہمارے دوروں کے مقابلے میں کم ہیں۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کو ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئیں ہیں، بچیوں کو شہید کیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔

(جاری ہے)

جس طرح رمضان میں آیتہ اللہ خامنئی کو ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں ہیں ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو ۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشہ بڑھ گئی ہے اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں کی ترقی اصل ترقی ہے۔

قائد عوام شہید ذوالفقار بھٹو نے کسانوں کو زمین مہیا کی۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے لئے عوام کا نعرہ تھا “بینظیر آئے گی، روزگار لائے گی”۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماﺅوں کی دعاﺅں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کوختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔

آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے Bases کو بند کیا۔ جب حال ہی میں مختلف ممالک میں بم دھماکے ہو رہے تھے تو میں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بم اور شہید بی بی کا ذکر کروں گا تو صدر زرداری کو بھی خراج تحسین پیش کروں گا۔

ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ہر لحاظ سے مضبوط ہو صرف پی پی پی ہی معاشی طور پر یہ کام کر سکتی ہے۔ یہ تین نسلوں کی جدوجہد ہے۔ شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے سرداری نظام ختم کیا۔ FCR کا خاتمہ کیا۔ قائدعوام نے بلتستان کی سرزمین پر کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ گندم اور پٹرول پر سبسیڈی قائدعوام نے دی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ سب کچھ جدوجہد سے حاصل کیا۔

جی بی کو پہلے ناردرن ایریا کہتے تھے صدر زرداری نے جی بی کا نام دیا۔ اب ہم نے مل کر جدوجہد کرکے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کرنا ہے۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔

وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ شہید بی بی نوے کی دہائی میں یہ منصوبہ شروع کرنا چاہتی تھیں لیکن اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ ہم نے یہ منصوبہ 2015 میں شروع کیا اور اس منصوبے کے سربراہ سندھ کے وزیراعلیٰ کو بنایا۔ اس منصوبے میں روزگار کا 80 فیصد تھر کے عوام کو دیا گیا۔

تھر کے منصوبے سے تھرکے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شئیر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ CPEC کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکو ل کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں لیکن دوسرے لوگ غریبوں کا روزگار چھینتے ہیں۔

یہ سمجھتے ہیں کہ امیر کو اور امیر بنائیں گے تو وہ نوکریاں دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔

سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے اور یہ گھر موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔

خواتین کو ان گھروں کا مالک بنایا اور زمین کی یہ منتقلی قائد عوام کے بعد سب سے بڑا منصوبہ ہے کیونکہ یہ زمین بھی خواتین کے نام کر رہے ہیں۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ ہم غریب اور عوام دوست ہیں اسی لئے بی آئی ایس پی اور گھروں کا منصوبہ دیتے ہیں ۔ سندھ میں ہسپتال بنائے، سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یوٹی اور ڈاﺅ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل ، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔

دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشااللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگاکر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔

ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے اور آپ کو معاشی طور پر مضبوط کریں گے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انہوں نے ڈاکٹر مبشر حسن کو ایک تحقیق کرنے کو کہا تھا جس سے 70 کی دہائی میں یہ بات سامنے آئی کہ جی بی میں ہم 50ہزار میگا واٹ بجلی بنا سکتے ہیں جو ہم بنا کر دکھائیں گے۔ یہ منصوبہ اسلام آباد میں کوئی بیوروکریٹ نہیں ہم اور آپ مل کر بنائیں گے اور اسلام آباد کو بجلی بیچیں گے۔

7تاریخ کو اس صوبے کے عوام کو سوچنا ہے کہ آپس میں لڑ کر کسی اور کو فائدہ نہ پہنچائیں۔ پی پی پی کو بھاری اکثریت ملتی ہے تو ہم مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ہم نے سکردو کو وزیراعلی اور گورنر دیا۔ یہ صرف مہدی شاہ کی عزت نہیں بلکہ سکردو کے عوام کی عزت ہے۔ اب میدان میں نئی نسل آگئی ہے اور آپ کے ووٹ اور ساتھ کی وجہ سے توقیر شاہ کو سکردو 1 سے جتوائیں گے۔

آپ سکردو 2 میں محمد علی شاہ کو ووٹ دیںسکردو 3 سے فدا محمد ناشاد کو جتوانا ہے۔ اسکردو4 میں راجہ ناصر علی خان کو منتخب کرنا ہے۔ خرمنگ کے اقبال حسین کو جتوانا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں شگر سے عمران ندیم کو نہیں جیتنے دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ انہیں جتوانا ہے اور گھانچے1 سے ڈاکٹر عاشق حسین کو منتخب کرنا ہے۔ گھانچے 2 میں میری امیدوار آمنہ انصاری ہیں اور گھانچے 3 میں انجینئر محمد اسماعیل ہیں۔

میں چاہتا ہوں کہ انجینئر محمد اسماعیل کے حلقے سے جی بی ہاﺅسنگ اینی شئیٹو شروع کروں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تمام امیدواروں سے ہاتھ کھڑے کروا کر وعدہ لیا کہ وہ منتخب ہوکر عوام کی خدمت کریں گے۔ انہوں نے عوام سے بھی وعدہ لیا کہ 7جون کو تیرپر مہر لگائیں تاکہ شہید قائد عوام اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کیا جا سکے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایو س نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار