اسرائیل کا وجود عالمی امن کیلئے مستقل خطرہ بن گیا،ملی یکجہتی کونسل
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور(نمائندہ جسارت)ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے صدر ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر زبیر، سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ اسرائیلی صہیونی جنگی جرائم کی ناجائز ریاست نے پوری دنیا پر جنگ مسلط کردی ہے، بے لگام اسرائیل امریکی سرپرستی اور اس کی مکمل تائید و اعانت کے ساتھ عالم اسلام پر حملہ آور ہوگیا ہے، عالم اسلام حقیقی خطرات میں گھر گیا ہے، عالم اسلام کی قیادت کو خوابِ غفلت، مجرمانہ بزدلی اور اختلافات کے غلافوں سے باہر آنا ہوگا، عالم اسلام کے اتحاد اور اس کے ایمان، آزادی، عزت و وقار کے تحفظ کے لیے جارح، بدمست، اسلام دشمن قوتوں کا مقابلہ ناگزیر ہوگیا ہے، اب یہ امر بالکل عیاں ہے کہ اسرائیل کا ناجائز وجود عالمی امن کے لیے مستقل خطرہ بن گیا ہے۔ملی یکجہتی کونسل کے مرکزی قائدین حافظ نعیم الرحمن، علامہ سیّد ساجد علی نقوی، سینیٹر علامہ ناصر عباس جعفری، پیر سید ہارون گیلانی، علامہ زاہد قاسمی، علامہ عارف حسین واحدی، سید ناصر عباس شیرازی، ڈاکٹر عطا الرحمن، مخدوم ندیم ہاشمی، حافظ عبدالغفار روپڑی، علامہ سید ضیا اللہ بخاری، ڈاکٹر علی عباس نقوی، مولانا اللہ وسایا، ڈاکٹر صابر ابومریم، ڈاکٹر ضمیر اختر خان، علامہ شبیر میثمی، پیر سید صفدر گیلانی، قاری یعقوب شیخ، مفتی گلزار نعیمی اور محمد عبداللہ گل نے مشترکہ بیان میں کہا کہ پاکستان کے عوام ایران کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کرتے ہیں،اسلامی جمہوریہ ایران پر حملہ پاکستانی عوام اپنے وجود پر حملہ تصور کرتے ہیں،ایرانی فوجی قیادت اور اہم ترین شخصیات کی شہادتیں بڑے غم اور دکھ کا باعث ہیں لیکن شہدا کا خون اسرائیلیت اور صہیونیت کی بربادی کا ذریعہ بنیں گے،صہیونیت بے لگام ہوگئی ہے،ظلم، تباہی، انسان کُشی اور آزاد ممالک کی آزادی پر حملے کے ناقابل معافی جرائم کو روکنا ہوگا،امریکا کی اسرائیل کے لیے ناجائز ہمدردیاں اور ناجائز حمایت اب ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اسرائیل کی ناجائز سرپرستی کرکے امریکا دنیا میں تنہا ہورہا ہے اور پوری دنیا میں امریکا کے خلاف نفرتیں بڑھنے کا سبب اسرائیل ہے،عالم اسلام کی قیادت بزدلی اور بے عملی کا شکار رہی تو تباہی سب کا مقدر بنے گی، عالم اسلام کی مشترکہ حکمت عملی ہی اسرائیل کے ناجائز وجود کو ختم کرسکتی ہے۔ پاکستان کی قیادت کے لیے یہ امر بڑا پیغام ہے کہ جنگی مجرم نیتن یاہو نے بھارتی فاشسٹ دہشت گرد نریندر مودی سے ایران پر حملے کے بعد رابطہ کیا اور آشیرباد حاصل کی۔ملی یکجہتی کونسل کی مرکزی قیادت نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم میاں شہباز شریف بلاتاخیر او آئی سی سربراہی اجلاس کے انعقاد کے لیے مسلم ممالک کے سربراہان سے رابطہ کریں۔ سعودی عرب میں اسلامی ممالک کی سربراہی کانفرنس ملت اسلامیہ میں نیا جوش اور ولولہ پیدا کرے گی۔ ملی یکجہتی کونسل کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ فیلڈ مارشل، آرمی چیف جنرل حافظ عاصم منیر کو اہم ممالک کی افواج کے سربراہان سے رابطوں کا ٹاسک دیا جائے، عالم اسلام کے لیے سیاسی، فوجی اور اقتصادی محاذوں پر مشترکہ حکمت عملی وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ملی یکجہتی کونسل عالم اسلام کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔