اسرائیل پر ایران کے جوابی میزائل حملے، متعدد عمارتیں ملیامیٹ
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
اسرائیل پر ایران کے جوابی حملے جاری ہیں، میزائل حملے میں متعدد عمارتیں ملیا میٹ ہو گئیں۔
عرب میڈیا کے مطابق تازہ حملے میں بیر شیبہ میں سائرن بجا دیے گئے۔ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ بیر شیبہ میں دھماکے کی آواز سنائی دی اور عمارت سے دھوئیں اٹھتے دیکھے گئے۔
ایران کی جانب سے جنوبی اسرائیل میں میزائلوں سے حملہ کیا گیا، جس سے متعدد عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں اور بیشتر مقامات پر دھواں اٹھ رہا ہے، اسرائیلی فوج کے کمانڈ اور انٹیلی جنس ہیڈ کوارٹرز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
بحیرہ مردار میں ڈرونز کی دو بار پروازوں کے بعد میزائل داغے گئے، حملے میں کسی کے ہلاک ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے، جنوبی اسرائیل کے علاقے بیرشیبہ میں سینکڑوں گاڑیوں کی تباہی کی اطلاعات ملی ہیں۔
دوسری طرف اسرائیلی فوج نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ رات بھر تہران میں درجنوں حملے کیے، ان حملوں میں 60 طیاروں نے حصہ لیا اور 120 اہداف کو نشانہ بنایا گیا، ان کی جانب سے میزائل بنانے والی فیکٹریوں کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔