data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

 اسرائیل نے اصفہان میں واقع ایک حساس جوہری تنصیب کو اپنے حالیہ فضائی حملوں میں نشانہ بنایا ہے، تاہم ایرانی حکام نے اس حملے کے نتیجے میں کسی قسم کے تابکار مواد کے اخراج یا جانی نقصان کی تردید کی ہے۔

اصفہان کے نائب گورنر نے میڈیا کو بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں صوبے کے مختلف شہرلنجان، مبارکہ، شہریزہ اور مرکزی شہر اصفہان نشانہ بنے، جن میں جوہری تنصیبات کے گرد و نواح بھی شامل ہیں۔

سرکاری خبر رساں ادارے فارس کے مطابق نائب گورنر نے کہا کہ اگرچہ جوہری مقام کو نشانہ بنایا گیا، لیکن خوش قسمتی سے کوئی خطرناک اخراج نہیں ہوا، اور نہ ہی کوئی جانی نقصان رپورٹ ہوا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر حالیہ اسرائیلی حملے میں پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ سعید یزد مارے گئے ہیں۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اسرائیلی افواج نے ایران میں ایک مخصوص رہائشی اپارٹمنٹ کو نشانہ بنایا، جس میں سعید یزد موجود تھے اور اسی حملے میں ہلاک ہوئے۔ یسرائیل کاٹز کے مطابق یہ کارروائی ایران کے خلاف جاری فوجی مہم کا اہم حصہ ہے۔

دوسری جانب ایرانی حکام کی طرف سے اس دعوے کی نہ تو تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی تردید سامنے آئی ہے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق تہران نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا۔

ایرانی حکام کے مطابق اسرائیل سے تعلقات کے شبہے میں 12 جون سے اب تک 22 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی کے تناظر میں دونوں ممالک ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کر رہے ہیں اور اطلاعات کی جنگ نے بھی شدت اختیار کر لی ہے۔ اس تمام صورتحال میں عالمی مبصرین کی نظریں ایران کے آئندہ ردعمل پر مرکوز ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق