پشاور، "عالمی حالات و استقبال محرم کانفرنس"
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی ایس او کے ریجنل صدر محمد حسن، علامہ عابد حسین شاکری و دیگر نے حالیہ دنوں میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ اور جنگی حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
پشاور، آئی ایس او کے زیراہتمام "عالمی حالات و استقبال محرم کانفرنس"
پشاور، آئی ایس او کے زیراہتمام "عالمی حالات و استقبال محرم کانفرنس"
پشاور، آئی ایس او کے زیراہتمام "عالمی حالات و استقبال محرم کانفرنس"
پشاور، آئی ایس او کے زیراہتمام "عالمی حالات و استقبال محرم کانفرنس"
پشاور، آئی ایس او کے زیراہتمام "عالمی حالات و استقبال محرم کانفرنس"
پشاور، آئی ایس او کے زیراہتمام "عالمی حالات و استقبال محرم کانفرنس"
پشاور، آئی ایس او کے زیراہتمام "عالمی حالات و استقبال محرم کانفرنس"
پشاور، آئی ایس او کے زیراہتمام "عالمی حالات و استقبال محرم کانفرنس"
پشاور، آئی ایس او کے زیراہتمام "عالمی حالات و استقبال محرم کانفرنس"
اسلام ٹائمز۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان خیبرپختونخوا ریجن کے زیر اہتمام پشاور پریس کلب میں ایک اہم کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی ایس او کے ریجنل صدر محمد حسن، علامہ عابد حسین شاکری و دیگر نے حالیہ دنوں میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ اور جنگی حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتِ حال، اسلامی دنیا کے خلاف ایک منظم عالمی سازش کا حصہ ہے۔ اسلامی مزاحمتی بلاک کو کمزور کرنے کے لیے امریکہ و اسرائیل کی جانب سے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ اور سپاہ پاسداران کے اعلیٰ عہدیداروں اور سائنسدانوں کو شہید کرنا عالمی قانون کی شدت سے خلاف ورزی کرنا اور ولی فقیہ رہبر معظم سید علی خامنہ ای کے قتل کی دھمکیاں خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عالمی حالات و استقبال محرم کانفرنس ا ئی ایس او کے زیراہتمام
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔