سولر پینلز پر 10 فیصد ٹیکس، اب فی واٹ سولر پینل کی قیمت کیا ہوگی؟
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
حکومت کی جانب سے بجٹ 2025-26 میں اعلان کیا گیا تھا کہ سولر پینلز پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) عائد کیا جائے گا، بعدازاں عوامی بے چینی کے پیش نظر اسے کم کر کے 10 فیصد کر دیا گیا ہے۔ تاہم سولر پینلز پر پہلی بار اس قدر بھاری بھرکم جی ایس ٹی عائد ہونے کے بعد سولر پینل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے اس فیصلے سے سولر پینل لگوانے کے خواہشمند افراد کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے حکومت نے عوام کا بڑا مطالبہ مان لیا، سولر پینلز پر سیلز ٹیکس میں کمی کا اعلان
پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے وائس چئیرمین آفاق علی خان نے وی نیوز کو بتایا کہ پاکستان تیزی سے سولر پینلز نصب کروانے والے ممالک میں شامل ہے۔ اور مہنگی بجلی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے گھریلو صارفین کی ایک بڑی تعداد سولر لگوانے کی خواہشمند تھی لیکن حکومت کے اس اقدام سے ان تمام افراد کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔ مگر شکر ہے کہ حکومت کی جانب سے 18 کے بجائے ٹیکس 10 فیصد کر دیا گیا ہے۔ ورنہ سولر پاور انڈسٹری مزید متاثر ہوتی۔
آفاق علی خان نے بتایا کہ ابھی سولر پینل کی قیمت فی واٹ 34 روپے سے 42 روپے کے درمیان ہے۔ اور ٹیکس عائد ہونے کے بعد 34 روپے فی واٹ سولر پینل کی قیمت 39 روپے تک چلی جائے گی۔ اسی طرح ہر برانڈ کے سولر پینل پر تقریباً اسی حساب سے ہی اضافہ ہوگا۔
جینیسس پاور سلیوشنز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر انجینئر نور بادشاہ نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے بیشک 18 سے کم کر کے ٹیکس 10 فیصد کر دیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود جب جی ایس ٹی 10 فیصد ہوگا۔ تو ودہولڈنگ ٹیکس بھی 5 فیصد لگے گا۔ اور 2 فیصد کچھ مزید ٹیکسز بھی لگتے ہیں جس کے بعد 17 فیصد ٹیکس بن جاتا ہے۔ اسی طرح اگر 18 فیصد ٹیکس عائد ہوتا تو سب کچھ ملا کر تقریباً مجموعی ٹیکس 25 فیصد بن جاتا۔
یہ بھی پڑھیے پنجاب میں سولر پینلز لگانے والے ہوجائیں خبردار، صوبے میں نئی پالیسی لاگو ہوگئی
نور بادشاہ کا کہنا تھا کہ اس وقت سولر پینل کی فی واٹ قیمت تقریباً 33 روپے سے شروع ہو کر 42 روپے تک جا رہی ہے۔ اور یہ ٹیکسز عائد ہونے کے بعد 33 روپے والے فی واٹ سولر پینل کی قیمت تقریبا 39 روپے ہو گئی ہے۔ یعنی 6 روپے اضافہ ہوا ہے۔
ڈائریکٹر ری نری سلیوشنز شرجیل احمد سلہری کا کہنا تھا کہ سولر پینلز کی قیمتوں میں تقریباً 15 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت نے سولر پینلز پر اضافی سیلز ٹیکس عائد کیا ہے۔ اس وقت اگر ابھی فی واٹ سولر پینل کی قیمت 35 روپے ہے تو تقریبا 41 روپے ہو جائے گی۔ اور یہ قیمت سولر پینل کی کوالٹی اور برانڈ پر منحصر ہے مگر ہر برانڈ پر تقریباً اتنا ہی اضافہ ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بجٹ 2025-26 سولر پینلز سولر پینلز کی قیمت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سولر پینلز سولر پینلز کی قیمت سولر پینلز پر کہ حکومت کے بعد
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔