Jasarat News:
2026-06-03@06:29:33 GMT

مشرق اور مغرب میں بھارت کی تنہائی

اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

چینی دارالحکومت بیجنگ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے دفاع کے اجلاس میں راجناتھ سنگھ نے مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کرنے سے انکار کیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق راجناتھ سنگھ کو اعتراض تھا کہ اس اعلامیے میں پہل گام میں ہونے والی دہشت گردی کا ذکر نہیں تھا اور نہ دہشت گردی کا منترا پڑھا گیا تھا اْلٹا اعلامیہ میں بلوچستان میں بھارت کی سرگرمیوں کا اشارتاً ذکر تھا۔ شنگھائی تعاون تنظیم چین اور روس کے اثر رسوخ کی حامل تنظیم ہے جو مستقبل میں مغربی بلاک کے متبادل ایشیائی بلاک کا کردار ادا کر سکتی ہے۔ بیجنگ کے حالیہ اجلاس میں بھی چین، روس، تاجکستان، ازبکستان، قازکستان، قرغیزستان، پاکستان اور بھارت کے وزرائے دفاع شریک تھے۔ اس اجلاس میں جب بھارت اپنی پسند کا اعلامیہ جاری نہ کروا سکا تو راجناتھ سنگھ نے دہشت گردی پر یک طرفہ لیکچر دینے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا شنگھائی تعاون تنظیم کے اراکین کو دہشت گردی کے خلاف متحد ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ریاستی اور دہشت گرد گروہوں کے ہاتھ میں تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات اْٹھانا ہوں گے۔
ایشیائی ملکوں کی تنظیم میں راجناتھ سنگھ کی فرسٹریشن اور تنہائی اعلامیے پر دستخط نہ کرنے سے واضح تھی۔ شنگھائی کانفرنس کے ہال تلے بھارت کے دو قریبی ہمسائے چین اور پاکستان بھی موجود تھے اور ایشیا کی دوبڑی طاقتوں روس اور چین بھی موجود تھے اور مجموعی طور پر ایشیا کی چار ایٹمی طاقتوں کا اکٹھ تھا۔ اپنے ہمسایہ اور علاقائی ملکوں میں بھارت کی یہ تنہائی قابل دید منظر بنا رہی ہے۔ دوسری طرف مغرب میں بھارت کا حال ان دنوں کچھ اچھا نہیں رہا۔ مغرب کا لاڈلہ اور چہیتا بھارت ان دنوں زیادہ محبوب نہیں رہا۔ جب سے بھارت نے یوکرین کی جنگ میں دوکشتیوں پر سوار ی کا کرتب دکھانے کا فیصلہ کیا مغرب میں اس کے لیے قبولیت اور پسندیدگی کا گراف گر گیا ہے۔ مغرب میں نریندر مودی کے چمکتے دمکتے بھارت کے بْرے دن چل رہے ہیں۔ دنیا کے کینوس پر اپنا منفرد مقام بنانے کی خواہش میں نریندر مودی دو کشتیوں کے سوار کی مشکل صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں۔ نریندرمودی نے یہ جان لیا تھا کہ اب بھارت اپنے بام عروج پر پہنچ چکا ہے جہاں اسے کوئی ڈرا دھمکا سکتا ہے اور نہ ہی اس کے ساتھ تحکمانہ انداز اپنا سکتا ہے۔ یہ سوچ اپناتے ہوئے نریندر مودی چین کے ساتھ اپنے مصلحت آمیز رویے کو فراموش کرتے رہے۔
بھارت عرصہ دراز سے الزام عائد کرتا رہا ہے کہ چین لداخ میں اس کی حدود میں خاموش پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہے بھارت نے سرکاری سطح پر اس پر کبھی سخت ردعمل نہیں دکھایا حتیٰ کہ نریندر مودی تو ایک بار اس بات ہی سے صاف انکاری ہوگئے کہ چین نے اس کی زمین پر کوئی قبضہ کیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے کئی مواقع پر نریندر مودی کو غصہ دلانے کی کوشش کی اور کہا کہ وہ سارا زور پاکستان کے خلاف استعمال کرتے ہیں مگر وہ چھپن انچ چوڑا سینہ اور لال آنکھ چین کو کیوں نہیں دکھاتے جو بھارت کے علاقوں پر قبضہ کررہا ہے۔ اس کے باوجود نریندر مودی کی انا اور غیرت کبھی چین کے خلاف بیدار نہ ہو سکی۔ یہ وہ عملیت پسندی تھی جس میں بھارت خود کو چین کا ہم پلہ نہیں سمجھتا تھا اسی لیے وہ چانکیہ کے اصول کے مطابق اپنے سے زیادہ طاقتور کے آگے مونچھ نیچی کرنے کی حکمت عملی اپنائے ہوئے تھا۔ اس کے برعکس جب مغرب کو بھارت کی ضرورت پڑی تو اس نے پہلے چین اور بعد ازاں روس کے خلاف استعمال ہونے سے پیٹھ دکھا دی۔ کواڈ کے نام پر مغرب نے بھارت کو جنوبی چین کے جزائر میں چین کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی مگر بھارت کو کواڈ میں رہتے ہوئے کسی عملی قدم کی ہمت نہ پڑی۔ اسی طرح جب یوکرین کی جنگ میں بھارت کو پکارا گیا تو بھارت نے غیر جانبداری کے نام پر اپنی تنہا پرواز کا راستہ چنا۔
بھارت کی نیک نامی کا اسکرپٹ لکھنے اور اس کا چرچا کرنے کی مہم مغرب نے دو دہائیوں سے کسی فری لنچ کے طور پر نہیں کی تھی۔ جب مغربی ادارے اور میڈیا پاکستان کو جم کر بدنام کر رہا تھا تو اس کے پہلو بہ پہلو بھارت کو ایک نیک اور امن دوست تہذیب کا نمائندہ بنا کر پیش کیا جاتا تھا۔ اس رویے نے بھارت کی عادتیں بگاڑ نے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ بھارت نے اپنے ایشیائی ہمسایوں سے تو ایک مخاصمانہ رویہ اپنایا ہی تھا مگر وہ بوقت ضرورت مغربی ملکوں کی توقعات پر بھی پورا نہ اْتر سکا اور یوں پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے کا شوقین بھارت خود ایک تنہائی کا سامنا کررہا ہے۔
شنگھائی کانفرنس میں راجناتھ سنگھ کا اظہار ناراضی اور پہل گام واقعے پر مغرب سے اپنے لیے مطلوبہ حمایت نہ ملنے نے بھارت کو ایک عجیب مخمصے کا شکار بنا ڈالا ہے۔ بھارت کے یہ برے دن مغرب میں کتنا عرصہ چلتے ہیں؟ یہ کہنا قبل ازوقت ہے مگر اس وقت سر پر منڈلانے والے یہ بادل چھٹ بھی سکتے ہیں کیونکہ بین الاقوامی تعلقات میں اگر فری لنچ نہیں ہوتا تو رشتوں کے منجمد اصول اور مستقل رویے بھی نہیں ہوتے۔ بھارت دو عشروں سے گاجریں ہی کھاتا رہا ہے ان دنوں اسے چھڑی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو اس میں کسی اور کا نہیں بھارتی قیادت کا قصور ہے جو مغرب کی مہربانیوں کو فری لنچ سمجھ بیٹھے تھے۔ کچھ اور نہیں پاکستان ہی سے اس پرپیچ تعلق اور مہرباں راتوں کا راز اور حقیقت معلوم کرنا چاہیے تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: راجناتھ سنگھ میں بھارت بھارت کے بھارت کی بھارت کو بھارت نے کے خلاف رہا ہے چین کے

پڑھیں:

کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں

لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نہایت قریب انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں خوبصورت ہمالیائی پہاڑی سلسلے کے درمیان واقع ون دجی گاؤں کی 19 سالہ کلثومہ کے لیے جدید زمانہ صرف ایک محاورہ ہی ہے، کیونکہ ان کی زندگی قدیم انسانوں جیسی ہی ہے۔ون دجی گاؤں کی پانچ نسلوں نے آج تک بجلی کی روشنی نہیں دیکھی ہے اور نئی نسل بھی باورچی خانے میں چولہے کی آگ اور روشنی کے لیے مشعل کے دھویں میں پروان چڑھ رہی ہے۔اس گاؤں کو صدیوں سے بجلی کا انتظار ہے کیونکہ اسے ابھی تک بجلی کے گرڈ کے ساتھ نہیں جوڑا گیا ہے۔
ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں
ون دجی کی طرف جانے والے صرف راستے ہی دشوار نہیں ہیں، یہاں کی زندگی بھی مشکلات کے بیچ گھِری ہوئی ہے۔ دن بھر مشقت کے بعد جب شام ہوتی ہے، تو یہاں کے لوگ ایک نئی جدوجہد شروع کرتے ہیں۔کلثومہ کہتی ہیں کہ ’یہاں خواتین زیادہ پریشان ہیں، کیونکہ دن میں چولہے کا دھواں ہوتا ہے اور رات میں پڑھائی کے وقت مشعل کا دھواں انھیں بیمار کر دیتا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ گاؤں سے باہر جاتے ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ انسانی تہذیب کا حصہ نہیں ہیں۔جب ہم کپواڑہ مارکیٹ میں جاتے ہیں تو لوگوں کو سمارٹ فون پر مصروف پا کر ہمیں کمتری کا احساس ہوتا ہے، کسی رشتہ دار کے یہاں جاتے ہیں تو وہاں ہیٹر، بوائلر، گیزر وغیرہ دیکھ کر ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے لیے وقت اُدھر ہی رُک گیا جب انسان آگ سے ہی کھانا پکاتا تھا اور آگ سے ہی رات میں روشنی کرتا تھا۔
’ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں۔‘

متعلقہ مضامین

  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی