لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جولائی2025ء) مریم نواز حکومت کی پنجاب کے وزرا اور اسپیکر کیلئے قانون میں خصوصی ترمیم، اسپیکر پنجاب اسمبلی کو پورا مہینہ چھٹی کرنے پر بھی 37 ہزار کے بجائے ساڑھے 9 لاکھ روپے تنخواہ ملے گی، وزرا اور ڈپٹی اسپیکر کو بھی چھٹی پر جانے کے باوجود پوری تنخواہ ملے گی۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب کے وزرا،اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر کو تنخواہ کے برابر چھٹی الاونس بھی دینے کا فیصلہ، وزرا کی تنخواہوں میں 900 فیصد اضافہ کرنے والی مریم نواز حکومت نے اپنے حکومتی اراکین اور عہدیداروں پر خزانے کے منہ کھول دیے۔

پنجاب میں وزراء کی تنخواہ میں اضافے کے بعد لیو الاؤنس میں بھی اضافے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت نے منسٹرز، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا لیو الاؤنس تنخواہ کے برابر کرنے کا فیصلہ کرلیا جب کہ اس سلسلے میں پنجاب عوامی نمائندوں کے قوانین (ترمیمی) بل 2025 پنجاب اسمبلی سے منظور کرلیا گیا۔

(جاری ہے)

بل حالیہ اجلاس میں منظور کیا گیا، ترمیمی بل کے تحت پنجاب منسٹر (سیلری، الائونس، پرولیجز) ایکٹ 1975 میں ترامیم کی جائیں گی، بعد از ترامیم چھٹی پر تنخواہ کی کٹوتی نہیں ہو گی، صوبائی وزرا کی 1 لاکھ تنخواہ کے وقت 1 ماہ کی چھٹی پر 74 ہزار تنخواہ ملتی تھی۔

متن کے مطابق بعد از ترامیم پنجاب کے وزراء کو 1 ماہ چھٹی پر ماہانہ 74 ہزار کے بجائے پوری تنخواہ 9 لاکھ 60 ہزار ملے گی، اسپیکر پنجاب اسمبلی کو 1 لاکھ 25 ہزار تنخواہ کے وقت 1 ماہ چھٹی پر 37 ہزار تنخواہ ملتی تھی۔ بعد از ترامیم سپیکر پنجاب اسمبلی کو 1 ماہ کی چھٹی پر 37 ہزار کے بجائے پوری تنخواہ 9 لاکھ 50 ہزار ملے گی، ڈپٹی اسپیکر کو 1 لاکھ 20 ہزار تنخواہ کے وقت ایک ماہ چھٹی پر 37 ہزار تنخواہ ملتی تھی۔ متن کے مطابق بعد از ترامیم ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کو چھٹی پر ماہانہ 37 ہزار کے بجائے پوری تنخواہ 7 لاکھ 75 ہزار ملے گی، یہ ترامیم وزراء کی تنخواہوں میں اضافے کے بعد ضروری ہیں، موجودہ لیو الاؤنس پچھلی تنخواہوں کے برابر ہے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پنجاب اسمبلی کو پنجاب کے وزرا ہزار کے بجائے پوری تنخواہ ڈپٹی اسپیکر ہزار تنخواہ تنخواہ کے کے مطابق چھٹی پر ملے گی

پڑھیں:

حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا

دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔

سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔

دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔

ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی

حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔

پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان

وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔ 
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا بڑا ریلیف، گھر کی مرمت اور توسیع کے لیے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض کا اعلان
  • لاہور میں 4 روز کے دوران کتنی ملی میٹر بارش ہوئی؟ پی ڈی ایم اے رپورٹ جاری
  • سرکاری ملازمتوں کا شاندار موقع! ماہانہ تنخواہ 1 لاکھ سے 7 لاکھ 50 ہزار روپے تک
  • نواز شریف کا کیا گیا وعدہ پورا، 10 جدید الیکٹرک بسوں کا تحفہ آزاد کشمیر روانہ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن