اسرائیل میں نیتن یاہو حکومت کے خلاف مظاہرے، غزہ جنگ بندی کا مطالبہ زور پکڑ گیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
اسرائیل میں غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی واپسی کے مطالبے پر ہزاروں شہریوں نے تل ابیب میں فوجی ہیڈکوارٹرز کے سامنے مظاہرہ کیا۔
مظاہرین نے وزیراعظم نیتن یاہو کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور فوری جنگ بندی معاہدہ کرنے کا مطالبہ کیا۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ سیاسی مفادات کی خاطر جاری جنگ کا انجام صرف تباہی اور انسانی المیہ ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، وزیراعظم نیتن یاہو نے ممکنہ جنگ بندی ڈیل پر بات چیت کے لیے اپنی حکومت کے دائیں بازو کے اتحادی رہنماؤں ایتمار بن گویر اور بیزلیل سموٹریچ کو طلب کر لیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک کے اندر اور باہر سے نیتن یاہو پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ حماس کے ساتھ جنگ بندی کے لیے پیش رفت کرے اور یرغمال بنائے گئے اسرائیلی شہریوں کی واپسی ممکن بنائے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نیتن یاہو
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔