—جنگ فوٹو

وفاقی وزیرِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن میں ڈی جیز، ایڈوائزر اور ای ڈی سمیت تمام بھرتیاں روک دی گئی ہیں، ہائر ایجوکیشن کا نیا چیئرمین میرٹ پر لگایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ 16 جولائی کو ہونے والے سرچ کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین کا اشتہار فائنل کر لیا جائے گا، تاہم نئے چیئرمین کی تلاش کے لیے کچھ وقت لگے گا اس دوران قائم مقام چیئرمین کا تقرر کر دیا جائے گا۔

وہ اتوار کو آرٹس کونسل میں نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن کے زیرِ اہتمام تقسیمِ اسناد کی تقریب کے بعد جنگ/ دی نیوز سے خصوصی گفتگو کر رہے تھے۔ 

انہوں نے کہا کہ کراچی میں جامعہ کراچی سے بھی بڑی یونیورسٹی قائم کی جا رہی ہے جس کے لیے دو سو ایکڑ زمین درکار ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کراچی کے باشندوں کو قدیم اور بوسیدہ گھروں کی بنیاد پر بے گھر نہیں ہونے دیا جائے گا، اس کے لیے ہم عدالت جائیں گے۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ شہری نشانے پر ہیں، دیکھنا یہ ہے کہ کس نے ان کو نشانے پر لیا ہوا ہے، اس صوبے میں سب سے زیادہ ترقی کرنے والی کرپشن کی انڈسٹری ہے، یہ بڑا المیہ ہے کہ متاثرین کی مدد کے لیے بھی اجازت لینی پڑتی ہے۔

وفاقی وزیرِ تعلیم نے کہا کہ ہم خود غیر قانونی تعمیرات اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے خلاف مقدمہ درج کروائیں گے، ہم سندھ بلڈنگ اتھارٹی کے خلاف ایف ائی آر درج کروائیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

پڑھیں:

ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔

(جاری ہے)

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کوہستان آپریشن سکینڈل: نیب نے 6 ارب سے زائد اثاثے خیبر پی کے حکومت کے حوالے کر دیئے
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا