پی ٹی آئی نے 26ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والے 5 اراکین قومی اسمبلی کو پارٹی سے نکال دیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف نے 26ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے پر اپنی صفوں میں شامل 5 اراکین قومی اسمبلی کو پارٹی سے برطرف کردیا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی کے مطابق یہ فیصلہ آئین اور جماعتی پالیسی سے انحراف پر کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: 26 ویں آئینی ترمیم پر پی ٹی آئی کا کردار مشکوک ہے، حافظ نعیم الرحمان
جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والے ارکان اورنگزیب کھچی، مبارک زیب خان، عثمان علی، ظہور قریشی اور الیاس چوہدری کو باضابطہ طور پر تحریک انصاف سے نکال دیا گیا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے اس اقدام کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ یہ پانچوں ارکان اب قومی اسمبلی کی رکنیت کے بھی اہل نہیں رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی نظم و ضبط پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور پالیسی سے انحراف کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاجی تحریک کا آغاز کردیا ہے، اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ احتجاجی تحریک 5 اگست تک اپنے عروج پر ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی رہائی کی تحریک کہاں سے اور کیسے چلے گی؟ عالیہ حمزہ نے پارٹی قیادت کی حکمت عملی پر سوال اٹھا دیا
پی ٹی آئی پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ نے لاہور میں ہونے والے اجلاس میں مدعو نہ کرنے پر پارٹی کی حکمت عملی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ بتایا جائے عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک کا آغاز کب اور کہاں سے ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
26ویں آئینی ترمیم wenews اراکین قومی اسمبلی برطرف پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی جماعتی پالیسی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 26ویں ا ئینی ترمیم اراکین قومی اسمبلی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی ا ئی جماعتی پالیسی وی نیوز تحریک انصاف قومی اسمبلی پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔