اسلام آباد:

نائب وزیراعظم،وزیر خارجہ سینیٹر اسحق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی، ترجمان دفتر خارجہ  کے مطابق اسحق ڈار  اور مارکو روبیو کے درمیان دو طرفہ ،علاقائی اور عالمی امور بشمول ٹیرف پرتبادلہ خیال ہوا۔

نائب وزیر اعظم ووزیر خارجہ کی بنگلہ دیش کے مشیر برائے امور خارجہ توحید حسین سے ملاقات بھی ہوئی،ا کتوبر 2024ء  کے بعد سے یہ دونوں ممالک کے درمیان چوتھی اعلیٰ سطحی بات چیت تھی، جو برسوں کے تناؤ کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں ایک نئی رفتار کا عندیہ ہے۔

دفتر خارجہ کیبیان میں کہا گیا  کہ دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی تعاون کو بڑھانے کیلئے  مشترکہ عزم کا اعادہ کیا،دونوں رہنمائوں نے غزہ میں سنگین انسانی بحران اور فلسطینیوں کے خلاف جاری اسرائیلی فوجی جارحیت پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ 

خبر ایجنسی کے مطابق عرب نیوزکوانٹرویومیں نائب وزیرِ اعظم  نے کہا ہے کہ دو ریاستی حل ہی فلسطین کے مسئلے کا واحد پائیدارحل ہے،اسحق ڈار نے کہ پاکستان فلسطینیوں کے حق خود ارادیت اور1967ء  سے پہلے کی سرحدوں کیساتھ خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

انھوں نے فلسطین اورکشمیر کے مسئلے کو یکساں نوعیت کے دیرینہ تنازعات قراردیا،سینیٹر اسحق ڈار نے فلسطین کے دو ریاستی حل سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی سے ملاقات کی،جس میں دوطرفہ تعاون اور فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان اسحق ڈار

پڑھیں:

ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات

واشنگٹن:

امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔

سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔

سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔

بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں

ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔

ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔

روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال