اسحاق ڈار کا مارکو روبیو کو فون، بنگلہ دیشی مشیرخارجہ سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
اسلام آباد:
نائب وزیراعظم،وزیر خارجہ سینیٹر اسحق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی، ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحق ڈار اور مارکو روبیو کے درمیان دو طرفہ ،علاقائی اور عالمی امور بشمول ٹیرف پرتبادلہ خیال ہوا۔
نائب وزیر اعظم ووزیر خارجہ کی بنگلہ دیش کے مشیر برائے امور خارجہ توحید حسین سے ملاقات بھی ہوئی،ا کتوبر 2024ء کے بعد سے یہ دونوں ممالک کے درمیان چوتھی اعلیٰ سطحی بات چیت تھی، جو برسوں کے تناؤ کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں ایک نئی رفتار کا عندیہ ہے۔
دفتر خارجہ کیبیان میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی تعاون کو بڑھانے کیلئے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا،دونوں رہنمائوں نے غزہ میں سنگین انسانی بحران اور فلسطینیوں کے خلاف جاری اسرائیلی فوجی جارحیت پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
خبر ایجنسی کے مطابق عرب نیوزکوانٹرویومیں نائب وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ دو ریاستی حل ہی فلسطین کے مسئلے کا واحد پائیدارحل ہے،اسحق ڈار نے کہ پاکستان فلسطینیوں کے حق خود ارادیت اور1967ء سے پہلے کی سرحدوں کیساتھ خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
انھوں نے فلسطین اورکشمیر کے مسئلے کو یکساں نوعیت کے دیرینہ تنازعات قراردیا،سینیٹر اسحق ڈار نے فلسطین کے دو ریاستی حل سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی سے ملاقات کی،جس میں دوطرفہ تعاون اور فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
واشنگٹن:امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔
سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔
بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیںایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔
ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔
روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔