کن صارفین کے بجلی میٹرز تبدیل کئے جائیں گے؟
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
لاہور: مون سون کے دوران بجلی کے میٹرز تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ، حکام نے بتایا کہ صارفین سے میٹر تبدلی کی فیس نہیں لی جائے گی۔
مون سون کے دوران جلنے والے اور ڈیفیکٹیو (خراب) میٹرز کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ، لیسکو چیف کے مطابق صارفین سے میٹر تبدیلی کی فیس وصول نہیں کی جائے گی، بجلی کا میٹر بلا ڈیمانڈ نوٹس اور مفت میں تبدیل ہوگا۔
انجنیئر لیسکو رمضان بٹ نے بتایا کہ عوام کے جلنے والے اور ڈیفیکٹیو میٹر کو تبدیل کرنے کے لئے3.
رمضان بٹ کا کہنا تھا کہ سنگل فیز، تھری فیز اور ایل ٹی ٹو میٹرز کو تبدیل کیا جائے گا، ڈیفیکٹیو کوڈ لگاکر دو ماہ کے اندر لازمی میٹر تبدیل ہوگا۔
واضح رہے کہ آئندہ ماہ عوام کے لیے بجلی سستی ہونے کا امکان ہے نیپرا نے سی پی پی اے کی درخواست پر سماعت مکمل کر لی ہے۔
ایک ماہ کے لیے بجلی کی قیمت میں فی یونٹ 65 پیسے کمی کا امکان ہے، بجلی سستی کرنے کے لیے نیپرا نے سی ی پی اے کی درخواست پر سماعت مکمل کرلی ہے،نیپرا اعداد و شمار کا جائزہ لینے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کریگا۔
نیپرا نے جون کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 65 پیسے سستی کرنے کی درخواست پر سماعت کی تھی، اگر درخواست منظور ہوئی تو صارفین کو مجموعی طور پر 8 ارب سے زائد کا ریلیف ملے گا۔ Post Views: 6
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔