Daily Mumtaz:
2026-07-24@09:29:50 GMT

کن صارفین کے بجلی  میٹرز تبدیل کئے جائیں گے؟

اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT

کن صارفین کے بجلی  میٹرز تبدیل کئے جائیں گے؟

لاہور: مون سون کے دوران بجلی کے میٹرز تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ، حکام نے بتایا کہ صارفین سے میٹر تبدلی کی فیس نہیں لی جائے گی۔
مون سون کے دوران جلنے والے اور ڈیفیکٹیو (خراب) میٹرز کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ، لیسکو چیف کے مطابق صارفین سے میٹر تبدیلی کی فیس وصول نہیں کی جائے گی، بجلی کا میٹر بلا ڈیمانڈ نوٹس اور مفت میں تبدیل ہوگا۔
انجنیئر لیسکو رمضان بٹ نے بتایا کہ عوام کے جلنے والے اور ڈیفیکٹیو میٹر کو تبدیل کرنے کے لئے3.

52 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا  ۔
رمضان بٹ کا کہنا تھا کہ سنگل فیز، تھری فیز اور ایل ٹی ٹو میٹرز کو تبدیل کیا جائے گا، ڈیفیکٹیو کوڈ لگاکر دو ماہ کے اندر لازمی میٹر تبدیل ہوگا۔
واضح رہے کہ آئندہ ماہ عوام کے لیے بجلی سستی ہونے کا امکان ہے نیپرا نے سی پی پی اے کی درخواست پر سماعت مکمل کر لی ہے۔
ایک ماہ کے لیے بجلی کی قیمت میں فی یونٹ 65 پیسے کمی کا امکان ہے، بجلی سستی کرنے کے لیے نیپرا نے سی ی پی اے کی درخواست پر سماعت مکمل کرلی ہے،نیپرا اعداد و شمار کا جائزہ لینے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کریگا۔
نیپرا نے جون کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 65 پیسے سستی کرنے کی درخواست پر سماعت کی تھی، اگر درخواست منظور ہوئی تو صارفین کو مجموعی طور پر 8 ارب سے زائد کا ریلیف ملے گا۔

Post Views: 6

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی

سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم