کرک میں دہشت گردوں کا ایف سی کی گاڑی پر حملہ،4اہلکار اور ڈرائیور شہید
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
ایف سی اہلکار فیلڈ سیکیورٹی کی ڈیوٹی پر مامور تھے، پہاڑ کی چوٹی پر گھات لگائے دہشت گردوں نے اچانک حملہ کردیا
وفاقی وزیر داخلہ اور علی امین گنڈاپور کی فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے حملے کی مذمت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار
خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں فتنۃ الہندوستان کے دہشت گردوں نے ایف سی اہلکاروں کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 4 اہلکار اور ڈرائیور شہید ہوگئے۔رپورٹ کے مطابق کرک کے علاقے امان کوٹ توے میں تھانہ گرگری کی حدود میں فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے ایف سی اہلکاروں کی گاڑی پر فائرنگ کی۔ایف سی اہلکار فیلڈ سیکیورٹی کی ڈیوٹی پر مامور تھے اورگاڑی میں سوار ہو کرروانہ تھے کہ پہاڑ کی چوٹی پر پہلے سے گھات لگائے مسلح افراد نے اچانک حملہ کردیا، شدید فائرنگ کے نتیجے میں 4 اہلکار موقع پر ہی شہید ہوگئے۔واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے پہاڑی علاقوں میں سرچ آپریشن جاری ہے۔وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کرک میں ایف سی اہلکاروں کی گاڑی پر فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے حملے کی مذمت کی اور جام شہادت نوش کرنے والے 3 اہلکاروں اور ڈرائیور کو خراج عقیدت پیش کیا۔محسن نقوی نے کہا کہ لانس نائیک محمود شاہ، سپاہی شاہد، سپاہی رؤف اور ڈرائیو شاہ پور نے شہادت کا بلند رتبہ پایا، شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔وزیر داخلہ نے کہا کہ شہید ہونے والے اہلکاروں کی عظیم قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں، شہداء کی قربانیاں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں، شہداء کے لواحقین کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں اور سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے واقعے کی مذمت کی اور متعلقہ حکام کو حملے میں ملوث عناصر کی گرفتاری کے لئے کاروائی عمل میں لانے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ شہداء کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں، ملک و قوم کی خاطر جانیں قربان کرنے والے سکیورٹی اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو سلام پیش کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: الہندوستان کے دہشت ایف سی اہلکار اہلکاروں کی کی گاڑی پر
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔