City 42:
2026-07-24@07:18:19 GMT

پاکستان و امریکا کے تعلقات مضبوط اور دیرپا ہیں: مریم نواز

اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT

ویب ڈیسک :وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات ایک مضبوط، بااعتماد اور دیرپا شراکت داری کی عکاسی کرتے ہیں۔

 وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے لاہور میں تعینات ہونے والے امریکا کے نئے قونصل جنرل اسٹیٹسن سینڈرز نے ملاقات کی۔ وزیراعلیٰ نے اسٹیٹسن سینڈرز کو لاہور آمد پر خوش آمدید کہا اور قونصل جنرل کا منصب سنبھالنے پر دلی مبارکباد دی۔

ایف آئی اے نے بحریہ ٹاؤن اور ملک ریاض کی کرپشن کے ناقابل تردید ثبوت حاصل کرلیے ؛ وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ

ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور،تجارتی تعلقات،توانائی تعاون، ٹیکنالوجی، زراعت اور تعلیمی تبادلوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی کوششوں کو سراہا۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹسن سینڈرز کی تعیناتی تب ہوئی جب پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں مثبت پیش رفت دیکھنے میں آ رہی ہے، پاک امریکا تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ایک قابلِ اعتماد،مستحکم اور دور رس شراکت داری کی بنیاد پر قائم ہیں۔ 

صوفی بزرگ شاہ عبد الطیف بھٹائی کا عرس، 9 اگست کو عام تعطیل کا اعلان

مریم نواز نے کہا کہ عوامی رابطوں، تجارتی تعاون اور مشترکہ مفادات نے پاک امریکا پارٹنرشپ کو مزید مضبوط کیا ہے، 2024ء میں پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی حجم میں اضافہ خوش آئند امرہے، امریکا پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور قابلِ اعتماد اقتصادی پارٹنر ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے مزید کہا کہ پاکستانی نژاد امریکی برادری دونوں ممالک کے درمیان عوامی روابط کی ایک مضبوط کڑی ہے، اپریل 2025ء میں امریکی کانگریشنل پاکستان کاکس سے بھی ملاقات کر چکی ہوں ۔

انٹر بینک میں مہنگا، اوپن مارکیٹ سے بھی ڈالر کی خبر آگئی

مریم نواز نے بتایا کہ پنجاب میں ہر سال 20 ہزار سے زائد آئی ٹی گریجویٹس فارغ التحصیل ہو رہے ہیں ، پنجاب پاکستان کی زرعی ریڑھ کی ہڈی ہے، پنجاب حکومت واٹرایفیشنٹ فارمنگ، پریسیژن ایگریکلچر اور کولڈ چین انفرااسٹرکچر کی ترقی کو ترجیح دے رہی ہے، امریکی ایگریکلچر ٹیکنالوجی کمپنیاں پنجاب میں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاک امریکا تعلق کو ایک جامع، سٹریٹجک اور عوامی مفاد پر مبنی پارٹنرشپ میں تبدیل کرنے کے لیے پُرعزم ہیں، پنجاب میں جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس نئی الیکٹرک ٹرین متعارف کرائی جا رہی ہے، پنجاب میں اپنی چھت اپنا گھر کے تحت چند ماہ کے قلیل عرصے میں پبلک سیکٹر ہاؤسنگ میں قابل تقلید مثال قائم کی ہے۔

لاہور میں 234 ٹریفک حادثات؛ 291 افراد زخمی 

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: پاکستان اور امریکا کے مریم نواز کے درمیان کہا کہ

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم