لاہور:

قومی کرکٹرز کی قسمت کے فیصلے کا وقت قریب آگیا، پی سی بی آئندہ چند روز میں سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے والوں کا اعلان کرے گا اور نئی پالیسی کے مطابق تینوں فارمیٹس کا حصہ بننے والے پلیئرز ہی معاہدے حاصل کر سکیں گے۔

تفصیلات کے مطابق ماضی کے برعکس پی سی بی نے اس بار سینٹرل کنٹریکٹ دینے کا سخت معیار اپنایا ہے، ایسے کھلاڑی جو تینوں فارمیٹس کا مستقل حصہ نہیں ہیں وہ فہرست میں جگہ بنانے میں ناکام رہ سکتے ہیں۔

رواں برس گرین شرٹس نے تین میں سے صرف ایک ٹیسٹ، 11 میں سے 2 ون ڈے اور 14 میں سے 7 ٹی ٹوئنٹی میچز ہی جیتے ہیں، حال ہی میں بنگلا دیش اور ویسٹ انڈیز جیسی نسبتاً کمزور ٹیموں کے خلاف بھی شکست نے شائقین کو سخت مایوس کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق عامر جمال، محمد ہریرہ، حسیب اللہ، عثمان خان اور محمد علی کنٹریکٹ سے باہر ہو سکتے ہیں جبکہ حسن نواز، محمد حارث، سفیان مقیم، حسن علی، فہیم اشرف اور فخر زمان کو معاہدوں سے نوازا جائے گا۔ حسین طلعت، خوشدل شاہ، محمد نواز اور صاحبزادہ فرحان کے نام بھی زیر غور ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کوچز، ہائی پرفارمنس ڈائریکٹر، فنانس اور انٹرنیشنل کرکٹ ڈپارٹمنٹ کے ساتھ مشاورت مکمل کر لی گئی ہے، حتمی فہرست چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی منظوری کے بعد جاری کی جائے گی۔

گزشتہ برس پی سی بی نے 25کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ سے نوازا تھا، اس بار یہ تعداد بڑھ کر 30 ہو جائے گی، سابقہ معاہدوں میں بابر اعظم اور محمد رضوان اے کیٹیگری میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے تھے جبکہ حیران کن طور پر شاہین شاہ آفریدی ایک درجہ تنزلی کے بعد بی کیٹیگری میں چلے گئے تھے۔

فخر زمان اور سرفراز احمد کو مکمل طور پر ڈراپ کیا گیا۔ امام الحق، افتخار احمد، حسن علی، فہیم اشرف، عماد وسیم، محمد نواز، طیب طاہر اور دیگر کئی کھلاڑی بھی کنٹریکٹ حاصل نہ کر سکے تھے۔ ڈی کیٹیگری میں عامر جمال، حسیب اللہ، کامران غلام، خرم شہزاد، میر حمزہ، محمد عباس آفریدی، محمد علی، محمد ہریرہ، محمد عرفان خان، محمد وسیم جونیئر اور عثمان خان کو رکھا گیا تھا۔

پی سی بی نے ریٹینر بجٹ میں 37 فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے 1173.

49 ملین روپے تک پہنچا دیا ہے، اگرچہ کھلاڑیوں کی ماہانہ تنخواہیں اور میچ فیس گزشتہ سال کے مطابق برقرار رہنا ہیں۔

اے کیٹیگری کے پلیئرز ماہانہ 65 لاکھ 70 ہزار روپے وصول کرتے ہیں، بی کے کھلاڑی 45 لاکھ 52 ہزار 500 روپے، سی کے کھلاڑی 20 لاکھ 35 ہزار روپے اور ڈی کیٹیگری والے 12 لاکھ 67 ہزار 500 روپے لیتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق رواں برس ممکنہ طور پر آخری بار کھلاڑیوں کو آئی سی سی آمدنی کا تین فیصد حصہ دیا جائے گا، اس حوالے سے تین سالہ معاہدہ آئندہ سال ختم ہو جائے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سینٹرل کنٹریکٹ کے مطابق پی سی بی

پڑھیں:

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جمعہ سے پاکستان، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) نافذ کر رہی ہے۔

امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا۔ یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت جمعہ کو ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے  باہمی  ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے۔ ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف: عالمی مارکیٹ میں کس ملک کو کتنا نقصان ہوا؟

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے (USMCA) کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

پاکستان سمیت کن ممالک پر 10 فیصد ٹیرف؟

حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

عالمی ردعمل

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

قانونی ماہرین کی رائے

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف اسٹاک مارکیٹ لے بیٹھا، کملا ہیرس کی پیشگوئی سچ ثابت

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع تجارتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا، سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھانا اور درآمدی تجارت پر سخت نگرانی برقرار رکھنا ہے، تاہم ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ اس سے عالمی تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ اور امریکی صارفین کے لیے درآمدی اشیا مہنگی ہونے کا خدشہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ٹرمپ ٹیرف

متعلقہ مضامین

  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ جانیے
  • فرانس میں جنگلاتی آگ نے 43 ہزار افراد کو انخلا پر مجبور کردیا
  • بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف