سینٹرل کنٹریکٹ، کرکٹرز کی قسمت کے فیصلے کا وقت قریب آگیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
لاہور:
قومی کرکٹرز کی قسمت کے فیصلے کا وقت قریب آگیا، پی سی بی آئندہ چند روز میں سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے والوں کا اعلان کرے گا اور نئی پالیسی کے مطابق تینوں فارمیٹس کا حصہ بننے والے پلیئرز ہی معاہدے حاصل کر سکیں گے۔
تفصیلات کے مطابق ماضی کے برعکس پی سی بی نے اس بار سینٹرل کنٹریکٹ دینے کا سخت معیار اپنایا ہے، ایسے کھلاڑی جو تینوں فارمیٹس کا مستقل حصہ نہیں ہیں وہ فہرست میں جگہ بنانے میں ناکام رہ سکتے ہیں۔
رواں برس گرین شرٹس نے تین میں سے صرف ایک ٹیسٹ، 11 میں سے 2 ون ڈے اور 14 میں سے 7 ٹی ٹوئنٹی میچز ہی جیتے ہیں، حال ہی میں بنگلا دیش اور ویسٹ انڈیز جیسی نسبتاً کمزور ٹیموں کے خلاف بھی شکست نے شائقین کو سخت مایوس کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق عامر جمال، محمد ہریرہ، حسیب اللہ، عثمان خان اور محمد علی کنٹریکٹ سے باہر ہو سکتے ہیں جبکہ حسن نواز، محمد حارث، سفیان مقیم، حسن علی، فہیم اشرف اور فخر زمان کو معاہدوں سے نوازا جائے گا۔ حسین طلعت، خوشدل شاہ، محمد نواز اور صاحبزادہ فرحان کے نام بھی زیر غور ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کوچز، ہائی پرفارمنس ڈائریکٹر، فنانس اور انٹرنیشنل کرکٹ ڈپارٹمنٹ کے ساتھ مشاورت مکمل کر لی گئی ہے، حتمی فہرست چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی منظوری کے بعد جاری کی جائے گی۔
گزشتہ برس پی سی بی نے 25کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ سے نوازا تھا، اس بار یہ تعداد بڑھ کر 30 ہو جائے گی، سابقہ معاہدوں میں بابر اعظم اور محمد رضوان اے کیٹیگری میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے تھے جبکہ حیران کن طور پر شاہین شاہ آفریدی ایک درجہ تنزلی کے بعد بی کیٹیگری میں چلے گئے تھے۔
فخر زمان اور سرفراز احمد کو مکمل طور پر ڈراپ کیا گیا۔ امام الحق، افتخار احمد، حسن علی، فہیم اشرف، عماد وسیم، محمد نواز، طیب طاہر اور دیگر کئی کھلاڑی بھی کنٹریکٹ حاصل نہ کر سکے تھے۔ ڈی کیٹیگری میں عامر جمال، حسیب اللہ، کامران غلام، خرم شہزاد، میر حمزہ، محمد عباس آفریدی، محمد علی، محمد ہریرہ، محمد عرفان خان، محمد وسیم جونیئر اور عثمان خان کو رکھا گیا تھا۔
پی سی بی نے ریٹینر بجٹ میں 37 فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے 1173.
اے کیٹیگری کے پلیئرز ماہانہ 65 لاکھ 70 ہزار روپے وصول کرتے ہیں، بی کے کھلاڑی 45 لاکھ 52 ہزار 500 روپے، سی کے کھلاڑی 20 لاکھ 35 ہزار روپے اور ڈی کیٹیگری والے 12 لاکھ 67 ہزار 500 روپے لیتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق رواں برس ممکنہ طور پر آخری بار کھلاڑیوں کو آئی سی سی آمدنی کا تین فیصد حصہ دیا جائے گا، اس حوالے سے تین سالہ معاہدہ آئندہ سال ختم ہو جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سینٹرل کنٹریکٹ کے مطابق پی سی بی
پڑھیں:
واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک وسیع تر سیاسی و سیکیورٹی معاہدے کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، تاہم زمینی صورتحال اب بھی نازک ہے اور جنوبی لبنان میں جھڑپوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔ ان مذاکرات کا مقصد لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بندی کو مضبوط بنانا، سرحدی سلامتی کے معاملات حل کرنا اور ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جو مستقبل میں ایک جامع سیاسی سمجھوتے کی بنیاد بن سکے۔
یہ بھی پڑھیں:لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
اس سلسلے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کی جانب سے متبادل اقدامات کی صورت میں مکمل جنگ بندی کے لیے آمادہ ہے، کیونکہ لبنانی قیادت جزوی یا محدود سیز فائر کے بجائے ایک جامع اور مستقل معاہدے کی حامی ہے۔ یاد رہے کہ اپریل 2026 میں واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جن میں سرحدی تنازعات، جنوبی لبنان کی سلامتی، جنگ بندی کے نفاذ اور طویل المدتی سیاسی انتظامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
Day one of direct Israel–Lebanon talks in Washington, DC has concluded, US State Department spokesperson Tommy Pigott says, adding “progress continues” on political and security tracks, with another round scheduled for tomorrow.
???? LIVE coverage ⤵️ https://t.co/tsxQueIYdS
— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 3, 2026
تاہم سفارتی پیشرفت کے باوجود زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں فضائی حملے جاری رکھے جبکہ حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ مذاکراتی عمل کو ابھی حتمی کامیابی قرار نہیں دیا جا رہا۔ اگرچہ امریکی قیادت کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے فائرنگ روکنے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم بعد میں دونوں جانب سے متضاد بیانات اور بعض مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے واضح ہوا کہ مستقل امن کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا لبنانی شہر ’صور‘ خالی کرنیکا حکم، شدید حملوں سے کشیدگی بڑھ گئی
اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ممکنہ معاہدے میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا، لبنانی فوج کی تعیناتی، سرحدی سلامتی کے نئے انتظامات اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم حزب اللہ کے اسلحے اور اس کے مستقبل کے کردار کا معاملہ اب بھی سب سے بڑا اختلافی نکتہ تصور کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر واشنگٹن مذاکرات مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ضرور ہیں، لیکن لبنان، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دیرپا امن کے لیے ابھی کئی سیاسی اور سیکیورٹی رکاوٹیں عبور کرنا باقی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا لبنان واشنگٹن