استنبول مذاکرات کا نتیجہ، روس اور یوکرین کے مابین 292 قیدیوں کا تبادلہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, August 2025 GMT
روس اور یوکرین نے ایک دوسرے کے 146 قیدی رہا کردیے ہیں، یہ اس سال کے دوران قیدیوں کے تبادلوں کی تازہ ترین کڑی ہے جس میں اب تک سینکڑوں جنگی قیدیوں کو آزاد کیا جا چکا ہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان استنبول میں مئی سے جولائی تک ہونے والے 3 دور کے مذاکرات کا واحد عملی نتیجہ بڑے پیمانے پر قیدیوں کا تبادلہ ہی رہا ہے، جو 2022 میں روسی حملے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے چند باقی شعبوں میں سے ایک ہے۔
یہ بھی پڑھیں:‘ہماری امن کی پکار کو نظرانداز کرنے کا جواب،’ یومِ آزادی پر یوکرین کے روس پر ڈرون حملے
روسی وزارتِ دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ 24 اگست کو 146 روسی فوجیوں کو یوکرین کے زیرِ کنٹرول علاقے سے واپس لایا گیا۔ اس کے بدلے میں یوکرین کو یوکرینی فوج کے 146 قیدی واپس کیے گئے، تاہم یوکرین نے تاہم رہائی کے حوالے سے کوئی اعداد و شمار جاری نہیں کیے۔
روسی حکومت کے مطابق روس کے 8 شہری، جو کورسک ریجن کے رہائشی تھے اور جنہیں یوکرین نے غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا ہوا تھا، انہیں بھی اس تبادلے میں واپس لے آیا گیا۔
مزید پڑھیں:یوکرینی ڈرون حملے کے بعد روسی جوہری پلانٹ میں آگ بھڑک اُٹھی
واضح رہے کہ اگست 2024 میں یوکرینی افواج نے اچانک روس کے کورسک علاقے میں داخل ہو کر سینکڑوں مربع کلومیٹر علاقے پر قبضہ کر لیا تھا جو کریملن کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہوا، روس نے جوابی کارروائی میں شمالی کوریا سے ہزاروں فوجی تعینات کیے لیکن اپریل تک بھی اسے پورے علاقے پر مکمل کنٹرول واپس حاصل نہ ہوا۔
یوکرین کی جانب سے اتوار کو رہا ہونے والوں میں دو صحافی دیمترو خلیوک اور مارک کلیوش بھی شامل تھے، یوکرین کے قیدیوں کے امور کے دفتر نے کہا کہ انہیں 2022 اور 2023 میں روسی قابض افواج نے غیر قانونی طور پر حراست میں لیا تھا۔
مزید پڑھیں:روس نے ایک ہزار یوکرینی فوجیوں کی لاشیں واپس کردیں
صحافتی آزادی کی عالمی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈر نے ان صحافیوں کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے پیشہ ورانہ کام کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا تھا، تنظیم نے مطالبہ کیا کہ جن لوگوں نے ان کے اغوا اور حراست میں بدسلوکی کی، انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، اور روس کے قبضے میں موجود باقی 26 یوکرینی صحافیوں کو بھی فوری طور پر رہا کیا جائے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ خلیوک کو مارچ 2022 میں کیف ریجن سے اغوا کیا گیا تھا، اب وہ بالآخر اپنے وطن واپس آ گئے ہیں۔
مزید پڑھیں:روس یوکرین علاقائی تنازع: زیلنسکی، پیوٹن سے براہ راست مذاکرات کے لیے تیار
اسی تبادلے میں سابق میئر خرسون، ولادیمیر میکولینکو بھی رہا ہوئے، جو 3 سال سے زائد قید میں رہے، صدر زیلنسکی کے معاون آندری یرماک کے مطابق 2022 میں انہیں تبادلے کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا لیکن ولادیمیر نے اپنی جگہ ایک شدید بیمار قیدی کو رہا کرنے کے لیے رضاکارانہ طور پر انکار کر دیا تھا، جو ان کے ساتھ روسی جیل کی کوٹھڑی میں تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
استنبول انصاف بدسلوکی جنگی قیدیوں حراست رپورٹرز ود آؤٹ بارڈر روس روسی حملے صدر زیلنسکی یوکرین یوکرینی افواج.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: استنبول انصاف بدسلوکی جنگی قیدیوں رپورٹرز ود آؤٹ بارڈر روسی حملے صدر زیلنسکی یوکرین یوکرینی افواج یوکرین کے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے اسلام آباد میں ملاقات کی۔ منگل کو گورنر آفس سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں ڈی آئی خان کے دینار ہسپتال کے لیے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔(جاری ہے)
اس موقع پر گورنر نے کہا کہ جنوبی اضلاع کے کینسر کے مریضوں کو شدید مشکلات کاسامنا ہے، وفاق طبی آلات کی فراہمی میں تعاون کرے جس پر وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے دینار ہسپتال کے لیے ضروری مشینری اور طبی آلات کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔
گورنر نے کہا کہ وفاق صحت کے شعبے میں خیبرپختونخوا کے پسماندہ اور متاثرہ علاقوں پر خصوصی توجہ دے، دینار ہسپتال میں جدید طبی سہولیات کی فراہمی سے جنوبی اضلاع کے مریضوں کو ریلیف ملے گا۔ وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں صحت کی سہولیات کی بہتری کے لیے ہرممکن تعاون کریں گے۔ ملاقات میں وفاق اور خیبرپختونخوا کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون مزید بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر احمد کریم کنڈی بھی اس موقع پر موجود تھے۔