مسلمان انفلوئنسر کے داخلے پر، کیرالہ کے مندر کو 6 دن تک ’پاک‘ کرتے رہنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
کیرالہ(انٹرنیشنل ڈیسک )بھارت کی ریاست کیرالہ کے گروایور سری کرشنا مندر میں داخل ہونے اور انسٹا گرام ریل بنانے پر مندر کو 6 روز تک ’پاک‘ کیا جائے گا۔
بھارت کی ریاست کیرالہ کے گروایور سری کرشنا مندر میں ایک انسٹاگرام ریل وائرل ہونے کے بعد شدید تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ یہ ریل سابقہ بگ باس ملیالم کنٹسٹنٹ اور انفلوئنسر جاسمین جعفر نے بنائی، جس میں وہ مندر کے تالاب میں پاؤں ڈبوتی ہوئی نظر آئیں۔
اس عمل پر عقیدت مندوں اور ثقافتی تنظیموں نے سخت ردعمل ظاہر کیا اور اسے مذہبی روایت کی خلاف ورزی اور جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف قرار دیا۔
مندر کو ’پاک‘ کرنے کے لیے مزید کیا کچھ کیا جائے گا؟
گروایور دیوسوم نے اعلان کیا ہے کہ مندر میں 6 روزہ پاکی کاری کرائی جائے گی۔
اس دوران 18 خصوصی پوجائیں اور 18 شیولی (مندر جلوس) منعقد ہوں گے۔
اس عرصے میں عقیدت مندوں کے لیے درشن محدود رہیں گے۔
مزید برآں، مندر کے منتظم نے مندر پولیس میں باضابطہ شکایت درج کرائی ہے اور ہائیکورٹ کے اس حکم کا حوالہ دیا ہے جس کے تحت مندر کے مقدس حصوں میں فوٹوگرافی پر پابندی ہے۔
شدید عوامی دباؤ کے بعد، جاسمین جعفر نے برسرعام معافی مانگی اور کہا کہ میرا مقصد کسی کو تکلیف دینا نہیں تھا، یہ سب لاعلمی میں ہوا۔
Why are Hindu temples always the victims here?
She is Jasmin Jaffar, a social media influencer with 1.
She recently posted a reel on Instagram captioned “Guruvayoor Ambala Nadayil”… pic.twitter.com/tprpj0wO6t
— महारथी-മഹാരഥി (@MahaRathii) August 21, 2025
Post Views: 5
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔