ترکیہ کا اسرائیل سے تجارتی تعلقات مکمل معطل کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT
ANKARA:
ترکیہ نے اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات مکمل طور پر معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے تجارتی جہازوں کو اسرائیل بندرگاہوں میں جانے پر پابندی عائد کردی اور اسرائیلی طیاروں کے لیے فضائی حدود بھی بند رہے گی۔
ترک میڈیا کے مطابق وزیرخارجہ ہاکان فیدان نے پارلیمنٹ کے غیرمعمولی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تمام تجارتی تعلقات ختم کر دیے گئے اور ترک بحری جہازوں کو اسرائیلی بندرگاہوں پر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی طیاروں کو ترک فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیرخارجہ نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں جنگی جرائم کا مرتکب ہوا ہے اور یہ انسانی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل غزہ میں گزشتہ دو برسوں سے دنیا کی نظروں کے سامنے بنیاسی انسانی اقدار کو پش پشت ڈالتے ہوئے نسل کشی کا جرم کر رہا ہے۔
ہاکان فیدان نے کہا کہ فلسطینیوں کی اسرائیل کے خلاف مزاحمت تاریخ کا دھارا بدل دے گی اور یہ مزاحمت مظلوموں کے لیے مثال بن گئی ہے اور زوال پذیر نظام کی بنیادوں کو ہلا دیا ہے۔
ترک وزیرخارجہ نے فلسطینیوں کی غزہ سے بے دخلی کی تجویز یکسر مسترد کردی اور زور دیا کہ یہ منصوبہ جس نے بھی پیش کیا ہو ہمیں یہ منصوبہ منظور نہیں ہے۔
فوٹو: ٹی آر ٹی
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کہ اسرائیل کہا کہ
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔