26 بوگس پلاٹس کی الاٹمنٹ، سابق ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ کیوٹہ زاہد بگٹی کی گرفتاری متوقع
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
کوئٹہ:
ڈی جی اینٹی کرپشن بلوچستان عبدالواحد کاکڑ کی ہدایت پر سابق ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ کیوٹہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (کیو ڈی اے) زاہد حسین بگٹی کے خلاف 26 بوگس پلاٹس کی الاٹمنٹ کے حوالے سے بڑی تفتیشی کارروائی شروع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر شیخ منیر احمد اور تفتیشی آفیسر شاہ محمد مندوخیل کی سربراہی میں کی جانے والی اس کارروائی میں زاہد حسین پر جعل سازی اختیارات کے ناجائز استعمال اور ہزار گنجی کمپلیکس کے ریکارڈ کو غائب کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں اور ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
اینٹی کرپشن ذرائع کے مطابق زاہد حسین اپنے عہدے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سرکاری زمینوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ میں ملوث رہا ہے جس سے مالیاتی نقصانات کے علاوہ انتظامی بے قاعدگیوں کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
ہزار گنجی کمپلیکس کے غائب کردہ نقشہ جات کی بازیابی کے لیے اینٹی کرپشن ٹیم نے خصوصی کوششیں شروع کی ہیں، جبکہ زاہد حسین کی گرفتاری کے لیے مختلف شہروں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق تفتیشی ٹیم کو شبہ ہے کہ زاہد حسین ایک منظم کرپشن نیٹ ورک کا حصہ تھا جس کی وجہ سے اس کیس میں مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔
ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ غائب ریکارڈ کے پیچھے بڑے بڑے عہدیداروں کا ہاتھ ہو سکتا ہے اور ریکارڈ کی بازیابی سے بڑے انکشافات سامنے آسکتے ہیں اسی تناظر میں اینٹی کرپشن نے دیگر مشتبہ افراد کے خلاف بھی کارروائی کی تیاری شروع کر دی ہے۔
دوسری جانب صوبائی حکومت نے اس کیس کو کرپشن کے خلاف جنگ کا حصہ قرار دیتے ہوئے عوام سے تعاون کی اپیل کی ہے۔
اگرچہ گرفتاری ابھی تک عمل میں نہیں آئی لیکن اینٹی کرپشن ذرائع کا کہنا ہے کہ زاہد حسین کی گرفتاری چند گھنٹوں کے اندر متوقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اینٹی کرپشن زاہد حسین کے خلاف
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔