رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں تجارتی خسارے میں بڑا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
اسلام آباد:
مالی سال 26-2025 کے پہلے دو ماہ(جولائی، اگست) میں ملک کا تجارتی خسارہ 29.01 فیصد اضافے کے ساتھ 6 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے اور سالانہ بنیاد پر تجارتی خسارہ 30.13 فیصد اضافے سے 2 ارب 86 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہا ہے۔
وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق اگست میں ماہانہ بنیاد پر تجارتی خسارے میں 8.
رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی اور اگست میں ملکی برآمدات میں 0.65 فیصدکا اضافہ ہوا، رواں مالی سال کے پہلے دوماہ برآمدات 5 ارب 10 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہیں۔
وفاقی ادارہ شماریات نے بتایا کہ اگست میں سالانہ بنیاد پر برآمدات میں 12.49 فیصد کمی ہوئی اور گزشتہ ماہ ماہانہ بنیاد پر برآمدات میں 9.98 فیصد کی کمی ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق اگست 2025 میں ملکی برآمدات کا حجم 2 ارب 41 کروڑ 70 لاکھ ڈالر رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: لاکھ ڈالر مالی سال اگست میں بنیاد پر کے پہلے
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :