خیبر پختونخوا: سرکاری کالجز میں بی ایس پروگرام ختم، ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
پشاور(نیوز ڈیسک) خیبر پختونخوا حکومت نے اعلیٰ تعلیم کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے صوبے کے سرکاری کالجز میں بی ایس پروگرام ختم کرکے اس کی جگہ **ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام (ADP)** شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
محکمہ تعلیم کے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بی ایس پروگرامز میں شامل متعدد مضامین کو غیر ضروری قرار دیا گیا ہے۔ صوبے کے 36 کالجز میں مختلف مضامین میں بی ایس ڈگری کو باضابطہ طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق بند کیے گئے پروگرامز میں **پشتو، پولیٹیکل سائنس، اردو، پاکستان اسٹڈی** سمیت دیگر مضامین شامل ہیں۔
اعلامیے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بی ایس پروگرام میں طلبہ کی انرولمنٹ بہت کم جبکہ ڈراپ آؤٹ کی شرح غیر معمولی حد تک زیادہ رہی۔ اسی بنیاد پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان مضامین کی جگہ ایسے پروگرامز متعارف کرائے جائیں جو **مارکیٹ کی ضرورتوں سے ہم آہنگ** ہوں اور فارغ التحصیل طلبہ کو عملی مواقع فراہم کرسکیں۔
ذرائع کے مطابق حکومت اب ایسے مضامین اور ڈگری پروگرامز کو ترجیح دے گی جو براہِ راست طلبہ کو روزگار کے مواقع سے جوڑیں، تاکہ صوبے میں اعلیٰ تعلیم کا معیار اور افادیت بڑھائی جا سکے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بی ایس پروگرام گیا ہے
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔