پشاور(نیوز ڈیسک) خیبر پختونخوا حکومت نے اعلیٰ تعلیم کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے صوبے کے سرکاری کالجز میں بی ایس پروگرام ختم کرکے اس کی جگہ **ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام (ADP)** شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

محکمہ تعلیم کے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بی ایس پروگرامز میں شامل متعدد مضامین کو غیر ضروری قرار دیا گیا ہے۔ صوبے کے 36 کالجز میں مختلف مضامین میں بی ایس ڈگری کو باضابطہ طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق بند کیے گئے پروگرامز میں **پشتو، پولیٹیکل سائنس، اردو، پاکستان اسٹڈی** سمیت دیگر مضامین شامل ہیں۔

اعلامیے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بی ایس پروگرام میں طلبہ کی انرولمنٹ بہت کم جبکہ ڈراپ آؤٹ کی شرح غیر معمولی حد تک زیادہ رہی۔ اسی بنیاد پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان مضامین کی جگہ ایسے پروگرامز متعارف کرائے جائیں جو **مارکیٹ کی ضرورتوں سے ہم آہنگ** ہوں اور فارغ التحصیل طلبہ کو عملی مواقع فراہم کرسکیں۔

ذرائع کے مطابق حکومت اب ایسے مضامین اور ڈگری پروگرامز کو ترجیح دے گی جو براہِ راست طلبہ کو روزگار کے مواقع سے جوڑیں، تاکہ صوبے میں اعلیٰ تعلیم کا معیار اور افادیت بڑھائی جا سکے۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بی ایس پروگرام گیا ہے

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں کا امریکہ کی معروف یونیورسٹیوں کا دورہ
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈ سے تباہی، 28 افراد جاں بحق، 47 گھر متاثر
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن