کیٹامائن کوئین نے میتھیو پیری کو جان لیوا ڈوز فراہم کرنے کا اعتراف کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
امریکی ٹی وی انڈسٹری کے مقبول ترین اداکار اور کامیڈی سیریز فرینڈز کے اسٹار میتھیو پیری کی موت کے حوالے سے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ برطانوی نژاد ڈرگ ڈیلر جسوین سنگھا عرف “کیٹامائن کوئین” نے عدالت میں اعتراف کیا ہے کہ مہلک ڈرگ ڈوز انہوں نے ہی فراہم کی تھی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق جسوین سنگھا پر منشیات فراہم کرنے، منشیات کا اڈہ چلانے اور ایسے مادے تقسیم کرنے کے سنگین الزامات تھے جو انسانی جان کے لیے مہلک ثابت ہو سکتے ہیں۔ ابتدا میں انہوں نے الزامات کو مسترد کیا، لیکن اگست میں ایک دستخط شدہ بیان کے ذریعے مؤقف بدلتے ہوئے اپنا جرم قبول کرلیا۔
پراسیکیوٹرز کے مطابق جسوین نے کیٹامائن ایک فرد کو دی، جس نے یہ دوا آگے میتھیو پیری کے اسسٹنٹ کینیٹھ ایواماسا تک پہنچائی۔ عدالت میں پیش کردہ شواہد کے مطابق پیری نے اپنی موت سے صرف چار دن پہلے جسوین سنگھا سے بڑی مقدار میں کیٹامائن خریدی تھی، جس کے 25 شیشوں کے لیے انہوں نے 6 ہزار ڈالر ادا کیے تھے۔
خیال رہے کہ میتھیو پیری اکتوبر 2023 میں 54 سال کی عمر میں ہلاک ہوئے تھے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ان کی موت کی وجہ کیٹامائن اوور ڈوز قرار دی گئی۔ پیری ماضی میں بھی ڈرگ اور الکحل کے نشے کی عادت سے کئی بار ریہیب جا چکے تھے۔ اگرچہ وہ ڈاکٹر کی نگرانی میں ڈپریشن کے علاج کے طور پر قانونی طور پر کیٹامائن کا استعمال کر رہے تھے، لیکن اپنی موت سے کچھ ہفتے قبل انہوں نے غیر قانونی ذرائع سے بھی منشیات خریدنا شروع کر دی تھیں۔
میتھیو پیری کا شمار دنیا بھر کے اُن اداکاروں میں ہوتا تھا جنہوں نے کروڑوں لوگوں کو اپنے کردار “چینڈلر بنگ” کے ذریعے ہنسنے پر مجبور کیا، لیکن ان کی ذاتی زندگی منشیات اور ڈپریشن کے اندھیروں میں گھری رہی۔
Post Views: 8.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: میتھیو پیری انہوں نے کے مطابق
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔