جامعہ کراچی؛ لینڈ مافیا سے اراضی بچانے کے لیے سینڈیکیٹ کا اجلاس طلب
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
کراچی:
جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے اپنی خالی اراضی کو لینڈ مافیا سے بچانے اور اسے استعمال میں لانے سے متعلق معاملات پر سینڈیکیٹ کا ہنگامی اجلاس پیر کو طلب کرلیا۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی کی صدارت میں ہوا یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں بلایا گیا ہے جب حال ہی میں گزشتہ جمعہ کے ڈی اے (کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی) کے بعض افسران کی جانب سے کراچی یونیورسٹی کی اراضی پر قبضے کی کوشش کی گئی تھی اور کے ڈی اے افسران باقاعدہ طور سلور جوبلی گیٹ کے سامنے یونیورسٹی کی خالی اراضی کے دعویدار بن کر سامنے آئے تھے۔
اس واقعے میں یونیورسٹی افسران اور طلبہ سے زمین کے معاملے پر تلخ کلامی اور ہاتھا پائی تک ہوئی تھی جبکہ بھایانی ہائٹس کے قریب یونیورسٹی کے قریب اراضی پر بھی ایک گروپ کی جانب سے دعوی سامنے آیا۔
ادھر جامعہ کراچی کے موجودہ کیمپس کے سامنے یونیورسٹی روڈ پر کراچی یونیورسٹی کی 7 ایکڑ سے زائد اراضی ہے جس کے کچھ حصے پر یونیورسٹی کی جانب سے نرسریز بنوائی گئی ہیں جبکہ کچھ ایکڑ پر مختلف عنوانات سے کاروباری افراد موجود ہیں جس میں رینٹ اے کار اور ریسٹورنٹس کی لاجسٹک موجود ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔