امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر نیویارک سٹی کے میئر کے انتخابات میں 3 میں سے 2 بڑے امیدوار دستبردار نہ ہوئے تو ڈیموکریٹ ظہرن ممدا نی اگلے میئر بن سکتے ہیں۔ تاہم ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کون سے امیدواروں کو دستبردار دیکھنا چاہتے ہیں۔

جمعرات کی شب وائٹ ہاؤس میں ٹیکنالوجی ایگزیکٹوز کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے کے دوران ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا انہوں نے کسی امیدوار کو دستبردار ہونے کا کہا ہے، تو ٹرمپ نے کہا: ’نہیں‘ کہا، مگر ساتھ ہی خواہش ظاہر کی کہ ایسا ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: نیویارک کے میئر امیدوار ظہران ممدانی کو ابتدائی جیت کے بعد اسلاموفوبیا کا سامنا


انہوں نے کہا:

’مجھے نہیں لگتا آپ ون ٹو ون دوڑ کے بغیر جیت سکتے ہیں۔ اور کسی طرح اسے (ممدانی کو) تھوڑی سی برتری مل گئی ہے۔ مجھے نہیں معلوم یہ کیسے ہوا۔‘

ٹرمپ نے مزید کہا:

’ میں چاہوں گا کہ 2 امیدوار پیچھے ہٹ جائیں تاکہ یہ ایک بمقابلہ ایک کا مقابلہ ہو، اور میرا خیال ہے کہ پھر یہ ریس جیتی جا سکتی ہے۔‘

ظہرن ممدانی کی زبردست

33 سالہ ڈیموکریٹک سوشلسٹ ظہرن ممدانی جون میں ڈیموکریٹک پرائمری میں سابق گورنر اینڈریو کومو کو واضح شکست دے کر اس مقابلے میں سب سے مضبوط امیدوار بن گئے ہیں۔ تاہم میدان میں اب بھی کومو آزاد حیثیت سے موجود ہیں، جبکہ موجودہ میئر ایرک ایڈمز اور ریپبلکن امیدوار کرٹس سلیوا بھی انتخابی میدان میں ہیں۔

ایڈمز پر دباؤ

امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں نے حالیہ ہفتوں میں ایرک ایڈمز کے قریب حلقوں سے رابطہ کیا ہے تاکہ دیکھا جا سکے کہ کیا وہ دوبارہ انتخابی مہم چھوڑ کر کوئی وفاقی عہدہ قبول کرنے پر راضی ہوں گے۔ ایڈمز نے فلوریڈا کے دورے پر ٹرمپ کے قریبی نمائندے اور سابق رئیل اسٹیٹ ڈویلپر اسٹیو وٹکوف سے ملاقات کی، لیکن انہوں نے زور دے کر کہا ہے کہ وہ مقابلے سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے نیویارک میئر کے لیے پہلے مسلمان امیدوار ظہران ممدانی کون ہیں؟

ایڈمز نے کہا:

’لوگ شور مچاتے ہیں یا دباؤ ڈالتے ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ہار مان لیں۔ میں ایسا نہیں کرتا۔‘

کومو اور سلیوا کے بیانات

کومو نے ایڈمز پر زور دیا کہ وہ ریس سے نکل جائیں:

’اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ممدانی خطرہ ہیں تو پھر ایک وقت ایسا آنا چاہیے کہ آپ مضبوط ترین امیدوار کے حق میں دستبردار ہو جائیں۔‘

دوسری جانب ریپبلکن امیدوار کرٹس سلیوا نے کہا کہ وہ کسی صورت مقابلے سے نہیں نکلیں گے:

’یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ اگر ایڈمز دستبردار ہوئے تو ان کے ووٹر کومو کے پاس چلے جائیں گے۔ ایسا بالکل نہیں ہوگا۔‘
انہوں نے مزید کہا:’میں یہ 9,852ویں بار کہہ رہا ہوں کہ میں دستبردار نہیں ہو رہا۔ میں 4 نومبر تک اس دوڑ میں رہوں گا۔‘

یہ بھی پڑھیں: بھارتی دائیں بازو کی قوتیں ظہران ممدانی کی کامیابی پر برہم کیوں ؟

ایرک ایڈمز کی مہم کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب گزشتہ سال ان پر بدعنوانی کے الزامات لگے۔ بعد ازاں ان کے ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات نے نیویارک جیسے لبرل شہر کے ڈیموکریٹس کو مزید ناراض کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ڈونلڈ ٹرمپ ظہران ممدانی۔ نیویارک کی میئرشپ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ نیویارک کی میئرشپ انہوں نے نے کہا

پڑھیں:

بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘

امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔

اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔

pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ

— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026

ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل