نیویارک کی میئر شپ: ٹرمپ کو ظہران ممدانی کی جیت کیوں یقینی نظر آنے لگی؟
اشاعت کی تاریخ: 5th, September 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر نیویارک سٹی کے میئر کے انتخابات میں 3 میں سے 2 بڑے امیدوار دستبردار نہ ہوئے تو ڈیموکریٹ ظہرن ممدا نی اگلے میئر بن سکتے ہیں۔ تاہم ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کون سے امیدواروں کو دستبردار دیکھنا چاہتے ہیں۔
جمعرات کی شب وائٹ ہاؤس میں ٹیکنالوجی ایگزیکٹوز کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے کے دوران ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا انہوں نے کسی امیدوار کو دستبردار ہونے کا کہا ہے، تو ٹرمپ نے کہا: ’نہیں‘ کہا، مگر ساتھ ہی خواہش ظاہر کی کہ ایسا ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: نیویارک کے میئر امیدوار ظہران ممدانی کو ابتدائی جیت کے بعد اسلاموفوبیا کا سامنا
انہوں نے کہا:
’مجھے نہیں لگتا آپ ون ٹو ون دوڑ کے بغیر جیت سکتے ہیں۔ اور کسی طرح اسے (ممدانی کو) تھوڑی سی برتری مل گئی ہے۔ مجھے نہیں معلوم یہ کیسے ہوا۔‘
ٹرمپ نے مزید کہا:
’ میں چاہوں گا کہ 2 امیدوار پیچھے ہٹ جائیں تاکہ یہ ایک بمقابلہ ایک کا مقابلہ ہو، اور میرا خیال ہے کہ پھر یہ ریس جیتی جا سکتی ہے۔‘
ظہرن ممدانی کی زبردست33 سالہ ڈیموکریٹک سوشلسٹ ظہرن ممدانی جون میں ڈیموکریٹک پرائمری میں سابق گورنر اینڈریو کومو کو واضح شکست دے کر اس مقابلے میں سب سے مضبوط امیدوار بن گئے ہیں۔ تاہم میدان میں اب بھی کومو آزاد حیثیت سے موجود ہیں، جبکہ موجودہ میئر ایرک ایڈمز اور ریپبلکن امیدوار کرٹس سلیوا بھی انتخابی میدان میں ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں نے حالیہ ہفتوں میں ایرک ایڈمز کے قریب حلقوں سے رابطہ کیا ہے تاکہ دیکھا جا سکے کہ کیا وہ دوبارہ انتخابی مہم چھوڑ کر کوئی وفاقی عہدہ قبول کرنے پر راضی ہوں گے۔ ایڈمز نے فلوریڈا کے دورے پر ٹرمپ کے قریبی نمائندے اور سابق رئیل اسٹیٹ ڈویلپر اسٹیو وٹکوف سے ملاقات کی، لیکن انہوں نے زور دے کر کہا ہے کہ وہ مقابلے سے دستبردار نہیں ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے نیویارک میئر کے لیے پہلے مسلمان امیدوار ظہران ممدانی کون ہیں؟
ایڈمز نے کہا:
’لوگ شور مچاتے ہیں یا دباؤ ڈالتے ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ہار مان لیں۔ میں ایسا نہیں کرتا۔‘
کومو اور سلیوا کے بیاناتکومو نے ایڈمز پر زور دیا کہ وہ ریس سے نکل جائیں:
’اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ممدانی خطرہ ہیں تو پھر ایک وقت ایسا آنا چاہیے کہ آپ مضبوط ترین امیدوار کے حق میں دستبردار ہو جائیں۔‘
دوسری جانب ریپبلکن امیدوار کرٹس سلیوا نے کہا کہ وہ کسی صورت مقابلے سے نہیں نکلیں گے:
’یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ اگر ایڈمز دستبردار ہوئے تو ان کے ووٹر کومو کے پاس چلے جائیں گے۔ ایسا بالکل نہیں ہوگا۔‘
انہوں نے مزید کہا:’میں یہ 9,852ویں بار کہہ رہا ہوں کہ میں دستبردار نہیں ہو رہا۔ میں 4 نومبر تک اس دوڑ میں رہوں گا۔‘
یہ بھی پڑھیں: بھارتی دائیں بازو کی قوتیں ظہران ممدانی کی کامیابی پر برہم کیوں ؟
ایرک ایڈمز کی مہم کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب گزشتہ سال ان پر بدعنوانی کے الزامات لگے۔ بعد ازاں ان کے ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات نے نیویارک جیسے لبرل شہر کے ڈیموکریٹس کو مزید ناراض کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈونلڈ ٹرمپ ظہران ممدانی۔ نیویارک کی میئرشپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ نیویارک کی میئرشپ انہوں نے نے کہا
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔