Daily Mumtaz:
2026-07-24@07:13:32 GMT

برطانوی نائب وزیراعظم اینجیلا رینر مستعفی

اشاعت کی تاریخ: 5th, September 2025 GMT

برطانوی نائب وزیراعظم اینجیلا رینر مستعفی

  برطانیہ کی نائب وزیراعظم اور لیبر پارٹی کی ڈپٹی لیڈر انجیلا رینر نے اپنی ناپختہ ٹیکس ذمہ داری کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئی ہیں ۔

ذمہ داری کا اعتراف اور تحقیقات
انجیلا رینر نے اعتراف کیا کہ انہوں نے اپنے نئے گھر (ہوْو میں) پر اسٹامپ ڈیوٹی (پراپرٹی ٹیکس) کم ادا کیا، جس کی وجہ ان کے بقول، غیرماہر قانونی مشورے کا انحصار تھا
انہوں نے خود کو کیس کے آزاد اخلاقی مشیر، سر لاری مگنس کو ریفر کیا، جس نے کہا کہ اگرچہ رینر نے نیک نیتی سے کام کیا، مگر یہ اقدام وزارتی کوڈ کی خلاف ورزی تھا۔

قومی ایمانداری کو درپیش چیلنج
یہ واقعہ لیبر حکومت کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے۔ رینر کی مقبولیت، طبقاتی پس منظر اور پارٹی کے اندر ان کا مقام اسے ایک مستقبل کی قائدانہ امید کے طور پر دیکھا جاتا تھا

اسٹارمر کا ردعمل اور سیاسی اثرات
وزیراعظم کیر اسٹارمر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے رینر کی خدمات کی قدر کی، تاہم استعفیٰ کو قبول کیا
۔ حزبِ اختلاف کے رہنماؤں نے اس معاملے کو سیاسی شفافیت اور ٹیکسدیہی کے حوالے سے لیبر حکومت پر تنقید کا ذریعہ بنایا ہے
رینر نے اپنا استعفیٰ نائب وزیرِ اعظم، ہاؤسنگ سیکرٹری اور پارٹی کی نائب قیادت سے دیا ہے۔ حکومت میں ایک نیا کابینہ تبدیلی کا مرحلہ شروع ہو چکا ہے

Post Views: 8.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری